تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 159

فَیَعْتَذِرُوْنَ۔یعنی کفار کوایسی اجازت نہ دی جا ئے گی کہ وہ عذر پیش کرسکیں یعنی ایسی کوئی اجاز ت انہیں نہ ملےگی کہ اس سے فائدہ اٹھا کر وہ کوئی معقول عذر پیش کرسکیں۔قیامت میں انبیاء کی شہادت سے مراد یہ جوفرمایا کہ قیامت کے دن انبیاء بطورگواہ کھڑے کئے جائیں گے میرے نزدیک انبیاء کی شہادت سے مراد ان کا نمونہ ہے کہ وہ اپنے نمونے کوپیش کریں گے کہ کلام الٰہی نے ہم پر یہ اثر کیا ہے۔اس تعلیم کو ماننے کایہ نتیجہ ہواکہ ہمیں خدامل گیا اورہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔اس طرح پر خدا تعالیٰ اس وقت کافروں کو شرمند ہ کر ے گاکہ دیکھو ہماری کلام کااعجاز جس سے روحانی قوتیں حاصل کرکے ہمارایہ نبی اس کمال تک پہنچ گیا اور تم اس کلام کاانکار کرکے کہاں سے کہا ںجاگرے۔نبی اور کلام الٰہی میں تلازم ہرنبی کلام الٰہی کے نتیجے کاعملی نمونہ ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ کلام بغیر نبی کے نہیں آتا۔نبی سے کلام کی شان کاپتہ لگتاہے اورکلام سے نبی کی شان کا۔وَ اِذَا رَاَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا اورجن لوگوں نے ظلم (کاطریق اختیار)کیا ہے وہ جب اس (موعود )عذاب کو دیکھیں گے تو(اس وقت)نہ (تو)وہ هُمْ يُنْظَرُوْنَ۰۰۸۶ (عذاب)ان پر سے ہلکا کیا جائے گااورنہ (ہی)انہیں مہلت دی جائے گی۔حلّ لُغَات۔یُنْظَرُوْنَ۔وَلَاھُمْ یُنْظَرُوْنَ اَنْظَرَ سے مضارع جمع مذکر مجہول کاصیغہ ہے اور اس کے معنے ہیں ان کو مہلت نہ دی جائے گی۔مزید تشریح کے لئے دیکھو حجر آیت نمبر۹۔اَنْظَرَہُ الدَّیْنَ:اَخَّرَہٗ۔قرض اداکرنے کے لئے قرض دار کومزید مہلت دی۔یُقَالُ کُنْتُ اَنْظُرُ الْمُعْسِرَ اَیْ اَمْھِلُہُ یعنی کُنْتُ اَنْظُرُ الْمُعْسِرَکافقرہ انہی معنوں کے لئے استعمال ہوتاہے کہ میں تنگدست قرض دار کو مہلت دیاکرتاتھا۔(اقرب) تفسیر۔اس جگہ عذاب سے مراد اُخروی عذاب ہے۔