تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 156
يَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ وہ اللہ (تعالیٰ)کے (ا س)انعام کو (بخوبی )پہچانتے ہیں (مگر)پھر (بھی)اس کا انکا رکررہے ہیں اوران میں سے الْكٰفِرُوْنَؒ۰۰۸۴ اکثر توپکے کافر ہیں۔حلّ لُغَات۔یُنْکِرُوْنَھَا :یُنْکِرُوْنَھَا اَنْکَرَ سے مضارع واحد مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اس کے معنے کے لئے دیکھو نحل آیت نمبر۲۳۔و حجرآیت نمبر ۵۴۔تفسیر۔یعنی الٰہی نعمتوں کواپنے نفوس میں دیکھتے ہوئے پھر بھی یہ لوگ ناشکری سے کام لے رہے ہیں۔یَعْرِفُوْنَ کہہ کر یہ بتایاہے کہ اول توانسان کو محض نعمت کو دیکھ کر ہی نصیحت حاصل کرلینی چاہیے مگر ان کوتو ا س سے بڑا مقام حاصل ہے اوروہ یہ کہ خود ان پر یہ نعمتیں نازل ہیں اوریہ اپنے نفوس میں ان نعمتوں کاوجود پاتے ہیں۔مگرپھر بھی ان کا انکار کرتے جاتے ہیں۔یعنی عملاً ان کی ناقدری کرتے ہیں یہ مراد نہیں کہ لفظاً انکار کرتے ہیں۔کیونکہ منہ سے تو کفار بھی کہتے تھے کہ یہ نعمتیں ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں۔يُنْكِرُوْنَهَاکے بعد اَکْثَرُھُمُ الْكٰفِرُوْنَکہنے کی وجہ آخر میں فرمایا وَاَکْثَرُھُمُ الْكٰفِرُوْنَ۔اس کے یہ معنے نہیںکہ ان میں سے اکثر منکر ہیں کیونکہ یہ معنی توثُمَّ يُنْكِرُوْنَهَا میں آچکے ہیں۔نیز یہاں یہ الفاظ نہیں فرمائے کہ اَکْثُرُھُمُ کَافِرُوْنَ بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اَکْثَرُھُمُ الْكٰفِرُوْنَ۔حالانکہ خالی یہ بات کہنے کے لئے کہ یہ کافر ہیں اس قدر کہنا کافی تھا کہ اَکْثَرُ ھُمُ کٰفِرُوْنَ۔الف لام کی زیادتی کی ضرورت نہ تھی۔لفظ کَافِرُوْنَ پر الف لام لانے کی وجہ پس الف لام کی زیادتی زائد مفہوم پیداکرنے کے لئے ہے جواس موقعہ پر کامل کے معنے دیتا ہے۔پس اَکْثَرُھُمُ الْكٰفِرُوْنَ کے معنے ہیں وہ پکے منکر ہیں۔یعنی انکا ر عام نہیں بلکہ بڑاشدید ہے اوراصرار کے ساتھ ہے۔الف لام کایہ مفہوم قواعدنحوسے ثابت ہے۔کہتے ہیں اَنْتَ الرَّجُلُ۔تو کامل مرد ہے (اقرب الموارد زیر لفظ ال)یہی وجہ ہے کہ یُنْکِرُوْنَھَا میں توسب کوشامل رکھا تھا اوراس جملہ میں اَکْثَرُھُمْ کالفظ استعمال فرمایا یہ بتانے کے لئے کہ یہ قوم ساری ہی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار کررہی ہے۔مگران میں سے اکثر تواس انکار میں حد سے بڑھ گئے ہیں گویا قوم کی اکثریت میں عناد اورانکار کا ماد ہ شدت سے پیداہوگیا ہے۔