تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 12

یُقَالُ اَنْذَرْتُ الْقَوْمَ سَیْرَ الْعَدُوِّ اِلَیْھِمْ فَنَذِرُوْا یعنی اَنْذَرَہُ کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خبر پہنچاتے ہوئے خوب ہوشیار کیا چنانچہ جب کہتے ہیں اَنْذَرْتُ الْقَوْمَ سَیْرَ الْعَدُوِّ تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ میں نے قوم کو دشمن کی پیش قدمی سے خوب ہوشیار کیا۔اور اس کا فعل لازم یا مطاوع نذر ہے جس کے معنی ہیں وہ ہوشیار ہو گیا۔(اقرب) تفسیر۔روح سے مراد دنیا کو زندہ کرنے والا کلام اور امر نبوت بِالرُّوْحِ۔روح سے مراد دنیا کو زندہ کرنے والا کلام ہے۔امر نبوت کو بھی روح کہتے ہیں۔نبیوں اورماموروں کا کلام چونکہ دنیا کے لئے زندگی بخش ہوتا ہے اس لئے اُسے روح قرار دیاجاتاہے۔اَنْ اَنْذِرُوْا میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس آیت میں وحی نبوت کا ذکرہے۔وحی کی دو قسمیں وحی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک صرف انسان کے اپنے نفس کے لئے۔اس وحی کوظاہر کرنے کا حکم نہیں دیاجاتا۔گواجاز ت ہوتی ہے کہ انسان اس کا اظہار کردے۔دوسری وحی بنی نوع انسان کے فائدہ کے لئے ہوتی ہے اورپھیلانے کاحکم دیاجاتاہے۔بلکہ اس کے نہ پھیلانے کو جرم قرار دیاجاتاہے یہ دوسری قسم کی وحی نبیوں کی وحی ہوتی ہے۔اس جگہ اَنْذِرُوْا کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ ہم جس وحی کااس جگہ ذکر کررہے ہیں۔وہ وحی نبوت ہے۔مِنْ اَمْرِہٖ میں چار باتوں کی طرف اشارہ مِنْ اَمْرِہٖ۔ان الفاظ سے ایک تویہ بتایا ہے کہ ملائکہ خود کلام نازل نہیں کرسکتے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل ہوتے ہیں۔اوراسی کابھیجا ہواکلام لاتے ہیں۔دوسرے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس جگہ اس روح یعنی کلام الٰہی کا ذکر ہے جو مِن اَمراللہ ہوتاہے۔یعنی اس میں خدا تعالیٰ کے اوامرو نواہی کا ذکر ہوتا ہے ان معنوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس جگہ وحی نبوت کا ذکر ہے۔مِنْ اَمْرِہٖ سے اَتٰی اَمْرُاللہِ کی طرف بھی اشارہ کیا گیاہے۔اوربتایا ہے کہ یہ جو ہم نے کہا ہے اَتٰی اَمْرُاللہِ۔یہ سنت ہماری سب نبیوں کے متعلق ہے۔ہم ان میں سے ہر اک کی طر ف فرشتوں کو وحی دے کر بھیجتے ہیں۔اوراس میں ہمارے امر کابیان ہوتاہے یعنی کفار کی ہلاکت اورمؤمنوں کی ترقی کا۔گویا کوئی نبی نہیں آتا کہ اس کے ذریعہ سے ایک قوم کی ہلاکت اوردوسری قوم کی ترقی کی خبرنہ دی گئی ہو۔مِنْ اَمْرِہٖ میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہرنبی کامانناضروری ہوتاہے۔کیونکہ وحی نبوت امر الٰہی پر مشتمل ہوتی ہے پس ہررسول کا انکار اس کا ہی انکار نہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ کا انکارہوتاہے جس نے اس پر وحی کی۔مِنْ عِبَادِہٖ سے مراد عابد بندے ہیں عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ میں عِبَادِہٖ سے مراد اللہ تعالیٰ کے