تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 148
موقعہ پرہوئی گویاکوئی اڑھائی تین سال بعد۔اورفتح مکہ کا واقعہ اس پیشگوئی کے بعد کوئی نودس سال بعد ہوا۔لیکن اس آیت میں فتح کے وقت کی خبر ان الفاظ میں دی گئی ہے کہ آنکھ جھپکتے بلکہ اس سے بھی پہلے یہ واقعہ ہوگا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم میں اس قسم کے الفاظ کے معنے قریب زمانہ کے ہوتے ہیں۔ضروری نہیں کہ پلک جھپکنے سے پلک جھپکنا ہی مراد ہو۔بعض لوگ ایسے الفاظ پیشگوئیوں میں دیکھ کر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں اورالہامی زبان کے محاورات کونظرانداز کردیتے ہیں۔وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَيْـًٔا١ۙ اوراللہ (تعالیٰ)نے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں سے اس حالت میں پیدا کیاہے کہ تم کچھ (بھی)نہیں جانتے تھے وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۰۰۷۹ اوراس نے تمہارے لئے کان اورآنکھیں اوردل پیداکئے ہیں تاکہ تم شکر اداکرو۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ اے لوگوہم نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹ سے جبکہ تم کچھ نہ جانتے تھے تم کو آنکھ کان اوردل دے کردنیا میں بھیجا تاکہ تم علم سیکھو لیکن تم نے ہماری ا س بخشش سے کچھ بھی فائدہ نہ اُٹھایا۔نہ آنکھوں سے دیکھا۔نہ کانوں سے سنا۔نہ دل سے سوچا۔اس فقرہ میں کیسارحم اورافسوس بھراہواہے۔خدائے قادراپنے بندوں کی ا س غفلت پر جس نے انہیں عذاب کامستحق بنادیا کیسے محبت سے بھرے ہوئے الفاظ میں افسوس کا اظہار کرتا ہے۔وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ کا تعلق سورت کے مضمون سے اس آیت کاتعلق سورۃ کے مضمون سے یہ ہے کہ اس میں الہام الٰہی کی ضرورت کی ایک اوردلیل دی گئی ہے۔اوروہ اس طرح کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے توہرایک علم سے خالی ہوتاہے۔مگراللہ تعالیٰ اسے آنکھ کان اوردل دے کر پیداکرتا ہے تاوہ علم حاصل کرے اوران کی مدد سے وہ علم سیکھتا ہے۔پس جو دنیو ی علوم انسان سیکھتاہے وہ سبھی اللہ تعالیٰ کے مہیا کئے ہوئے ذرائع سے سیکھتاہے۔کوئی انسان ایسانہیں جوکہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے دئے ہوئے ان ذرائع کی ضرورت نہیں۔میںخود ہی اپنے لئے حصول علم کے سامان پیداکروں گا۔پھرروحانی علم کے سیکھنے کے لئے جوذرائع اللہ تعالیٰ پیداکرتاہے ان کے استعمال سے اُسے کیوں انکار ہوتا ہے۔تعجب ہے کہ انسان کی سب عظمت ان ذرائع کے استعمال سے ہوتی ہے جواُسے قدرت عطافرماتی ہے۔