تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 147
کے لئے کہیں گے کہ آپؐ کے دشمنوں کی تباہی ایک اتفاقی حادثہ تھا یایہ کہ ان کے حالات ہی ایسے تھے کہ ہلاک ہوجاتے۔چنانچہ آج کل کے مسیحی مصنف اس مضمون پر بہت ہی زور دیاکرتے ہیں اورآپؐ کے مخالفوں کی ہلاکت کوطبعی امورکانتیجہ قراردیا کرتے ہیں۔دیکھو قرآن کریم کا اتارنے والا عالم الغیب اس آیت میں کس طرح ان لوگوں کے اعتراض کا جواب دیتا ہے۔آیت کو شروع غیب کاعلم رکھنے کے دعویٰ سے کرتا ہے اورپھر کفارکی ہلاکت کی خبر دیتا ہے اورختم ا س پر کرتا ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقی نہ ہو گا بلکہ ہماری قدرت کے ذریعہ سے ہوگا۔کس طرح اس آیت میں ایک طرف تومکہ میں رہتے ہوئے جبکہ کفار کے ظلم زوروں پر تھے اور مسلمانوں کے پاس کوئی طاقت نہ تھی وہ ہجرت پر مجبور ہورہے تھے فرماتا ہے کہ ہم غیب کا علم رکھنے والے خداتم کو بتادیتے ہیں کہ کفار کی ہلاکت کا وقت اب آن پہنچا۔اوریہ بھی بتادیتے ہیں کہ ان کی تباہی ہماری قدر ت کے ذریعہ سے ہوگی اوران حالات کے ذریعہ سے جوانسانی طاقت میں نہیں۔آنحضرت ؐ کی ترقی معجزانہ ہے اب دیکھو کس طرح اس آیت کے نزول کے بعد مدینہ کے سب لو گ مسلمان ہوگئے۔حالانکہ پہلے صرف چند آدمی مسلمان ہو ئے تھے اورکس طرح خود کفارنے محمد رسول اللہ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبورکیا ورنہ آپؐ مکہ کو چھوڑنے پرآمادہ نہ تھے۔صرف اُسی وقت آپ نے مکہ چھوڑاجبکہ کفار نے آپ کو قتل کردینے کافیصلہ کرلیا اورپھر اسی رات آپ ؐوہاں سے نکلے بلکہ اس وقت نکلے جبکہ کفار نے آپ کے گھر کامحاصرہ کرلیا۔گویا کفار پر آخری حجت پوری کردی کہ میں مکہ کو چھوڑنانہیں چاہتا۔مگرچونکہ تم نے میرے لئے اورکوئی راستہ نہیں چھوڑا اس لئے یہاں سے جاتاہوں۔اس کے بعد کفارنے کس قدر زورآپؐ کو مدینہ میں کمزور کرنے کے لئے لگایا۔مگر کس طرح آناًفاناً آپ کازوربڑھتا چلا گیا اورآخر کفار تباہ ہوئے۔اسے کون اتفاقی امر کہہ سکتاہے ؟کون طبعی نتائج کہہ سکتا ہے ؟ خصوصاً جبکہ قبل از وقت پیشگوئی بھی کردی گئی تھی۔مسیحی مصنف یہ تو ثابت کرسکتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے کسریٰ اورقیصر پر حملہ کیا ان کی حکومتیں تنزل کی طرف جارہی تھیں۔مگرسوال یہ نہیں کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع نے جب ایران اورروم پر حملہ کیاتھااس وقت ایرانی اوررومی حکومت کی مسلمانوںکے مقابل پر کیا حیثیت تھی۔بلکہ سوال یہ ہے کہ جب محمد رسو ل اللہ صلعم نے مکہ میں بیٹھے اپنی فتح اورمنکرین کی شکست کی خبر دی تھی اس وقت کو ن سی طاقت آپ کے پاس تھی ؟ اگر خدا نے آپ کو وہ طاقت دی جس نے ایک طرف عرب کو تہ و بالاکردیا اوردوسری طرف ایران و روم کو تواس کانام معجزہ نہیں تواَورکس چیز کانام معجزہ ہواکرتاہے۔آنکھ جھپکنے کے معنی زمانہ قریب کے یہ پیشگوئی مکی زندگی کے آخر میں کی گئی تھی اورسب سے پہلی فتح بدرکے