تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 145
نہ کرتے مگر تم سے یہ بھی نہ ہوا۔پھر دین کو جانے دو۔تم اگردنیا کے اموال اورمتاع کے پیچھے پڑے تھے تواسی میں ترقی کی ہوتی۔مگر تم تو دنیا میں بھی دوسروں کا بوجھ اٹھانے کی بجائے خود بوجھ بن رہے ہو۔مگر اس کے مقابل پر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )کو دیکھو کہ وہ غیروں کو انصاف کاحکم دیتے ہیں اوراپنی ذات میں صراط مستقیم پر ہیں۔یعنی ہرلحاظ سے کامل ہیں۔اب تم ہی بتائو کہ ہم اس کی مد دکریں یا تمہاری ؟ آیت ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا میں دو قسم کے کفار کی حالت کا بیان اس آیت او راس سے پہلی آیت میں دو قسم کے کفار کی حالت کو بیان کیاہے اوران دونوں گروہوں کے مقابل پر رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت کو پیش کیا ہے۔ایک قسم کفار کی یہ بیان کی کہ وہ رسوم و توہمات کے غلام ہیں اورگوان میں کام کی قابلیت توہے مگر وہ لوگوں کے ڈر سے کام کر نہیںسکتے۔اوردوسری قسم کے کفار کی حالت یہ بتائی کہ وہ رسوم و توہمات کے غلام بھی ہیں اوران کی قابلیتیں بھی ماری گئی ہیں۔اگر رسوم اورتوہمات سے آزاد بھی ہوجائیں تب بھی ان کی حالت ایسی مسخ ہوچکی ہے کہ وہ کوئی نیک کام نہیں کرسکتے بلکہ اللہ تعالیٰ پر بوجھ ہیں کہ اس کی سبوحیت پر ان کے وجود سے داغ لگ رہا ہے۔اس کے مقابل پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے غلام نہیں اورجو طاقتیں انہیں ملی ہیں انہیں بنی نو ع انسان کی خدمت میں لگارہے ہیں۔نیز وہ زبردست روحانی طاقتیں رکھتے ہیں جن کی مدد سے خود بھی اعلیٰ سے اعلیٰ اخلاق دکھاتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اب تم خود ہی سوچو کہ ایسے شخص کو ہم اپنے کام کے لئے چنیں گے جو قابل بھی ہواورہمارے دین کی خدمت بھی کررہا ہو یااس گروہ کو جوقابل توہو مگر اپنی طاقتوں کو خدا کی راہ میں لگانے سے معذورہو۔کیونکہ وہ رسم و رواج کی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔یاپھر ا س کو جو نہ توقا بل ہو نہ رسم و رواج کی قیود سے آزاد۔وَ لِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا اورآسمانوں اورزمین کی ہرپوشیدہ چیز(بھی)اللہ( تعالیٰ)ہی کی ہے۔اوراس (موعودہ)گھڑی(کی آمد)کامعاملہ تو كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ ایسا ہی ہے جیسے آنکھ کاجھپکنا بلکہ وہ (اس سے بھی )قریب تر (وقت میں واقع ہوجانے والا)ہے۔