تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 144
المولیٰ۔اَلْمَوْلٰی کے معنے کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۳۱۔اَلْمَوْلٰی اَلْمَالِکُ۔مالک۔اَلْمُعْتِقُ آزاد کرنے والا۔اَلصَّاحِبُ۔ساتھی۔آقا اَلْحَلِیْفُ۔معاہد۔اَلرَّبُّ۔رب۔اَلْوَلِیُّ کارساز۔اَلْمُنْعِمُ۔محسن۔اَلْمُحِبُّ محبت کرنے والا۔اَلْقَرِیْبُ۔رشتہ دار۔(اقرب) یُوَجِّھْہُ وَجَّھَہٗ اِلَیْہِ فِیْ حَاجَۃٍ کے معنے ہیں۔اَرْسَلَہٗ فَوَجَّہُ اِلَیْہِ اَیْ فَذَھَبَ لَازِمٌ وَمُتْعَدٍٍّّ۔اس کوکسی ضرورت کے لئے بھیجا اوروہ اس کے لئے چلا گیا۔یہ لفظ لازم اورمتعدی دونوں طرح استعما ل ہوتا ہے (اقرب) پس اَیْنَـمَا یُوَجِّھْہُّ کے معنے ہوں گے جہاں کہیں وہ اسے بھیجتاہے۔صراط۔اَلصِّرَاطُ اَلطَّرِیْقُ۔راستہ (اقرب) تفسیر۔اس آیت میں پہلے مضمون کی مزید وضاحت اس آیت میں پہلے مضمون کو ایک اَورمثال سے واضح کیا۔پہلی مثال میں تویہ بتایا تھا کہ اگر ایک شخص گوقابلیت تورکھتاہو لیکن بوجہ دوسروں کے قبضہ میں ہونے کے اس میں اس قابلیت کے اظہار کی طاقت نہ ہو تواس کا وجو د اورعد م وجود برابر ہوتاہے۔اب اس آیت میں ایک ایسے غلام کی مثال بیان فرمائی ہے جوگونگا ہو اور کسی نیک کام کے کرنے کی طاقت ہی نہ رکھتاہو ایساشخص بھی کسی فضل کا مستحق نہیں ہوتا۔کیونکہ نہ تو اس میں کام کی طاقت ہوتی ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچائے اور نہ اس کی زبان چلتی ہے کہ منہ سے ہی لوگوں کو نیک باتوںکی تعلیم دیتارہے۔پھر فرمایا کہ ان عیوب کی وجہ سے اس کا آقا جوکا م بھی اس کے سپرد کرے وہ اسے پورانہیں کرسکتا۔لیکن اس کے مقابل پر وہ غلام جو اپنے مالک کے حکم کے مطابق لوگوں کو بھی عدل کرنے کاحکم دیتاہو اورخود بھی سیدھے راستے پرقائم ہو یعنی نیک کام کرکے اپنے آقا کو خوش کرتارہتاہو۔بڑی فضیلت رکھتاہے اوریہ دونوں کسی صورت میں برابر نہیں ہوسکتے۔اورآقاان دونوں سے یکساں سلوک نہیں کرسکتا۔آنحضرت ؐ اور کفار کے ایک گروہ کا مقابلہ اس آیت میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورکفار کے ایک گروہ کامقابلہ کرکے دکھایاہے۔فرماتا ہے۔تم گونگے ہو تمہاری آنکھوں کے سامنے تما م عیب کئے جاتے تھے۔شرک ہوتاتھا اورہورہا ہے خدا کی صفات کو غلط طور پر پیش کیا جاتاتھااور کیا جاتا ہے۔مگر تم میں سے کسی کی زبان نہ ہلی۔اور کسی نے لوگوں سے نہ کہا کہ شرک نہ کرو اورخدا کی ہتک نہ کرو۔اگر کسی نے زبان ہلائی اورحق بیان کیا اوراپنے آقا کی عزت کے تحفظ کے لئے کلمہ خیر کہا تووہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔پھر اسی پر بس نہیں اگرتم دوسروں کو نیکی کاحکم نہ دے سکتے تھے توخود ہی نیکی پر قائم رہتے اوراپنے نیک اعمال سے خدا تعالیٰ کی سبوحیت اورپاکیز گی کااعلان کر تے۔شرک سے دوسروں کو نہیں روک سکتے تھے توکم از کم خود توشرک