تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 143
ممکن ہے کہ کشفی طورپر واقعی ایک مست اونٹ بھی آپ کے ساتھ اسے نظرآگیا ہو۔مگرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اس کا تذکرہ نہیں فرمایا۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ ابوجہل نے بعد میں اپنے ڈرکوچھپانے کے لئے جو آ پ کے سچ کی تائید کرنے کی وجہ سے ہوااورکفار کے اعتراض سے بچنے کے لئے بہانہ بنا کر یہ بات کہہ دی ہو۔اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسان کے بعض نیک اعمال مخفی ہوتے ہیںاوربنی نوع انسان ان کا کوئی بدلہ نہیں دے سکتے۔اس وجہ سے بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا یوم جزاء لائے جس میں اس کے ایسے اعمال بھی دنیا پرظاہر کئے جائیں اور اُسے اپناحق مل جائے۔وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ اوراللہ (تعالیٰ)دواورشخصوں کی حالت (بھی )بیان کرتا ہے جن میں سے ایک گونگا ہو جوکسی بات کی طاقت نہ رکھتا عَلٰى شَيْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَيْنَمَا يُوَجِّهْهُّ لَا يَاْتِ ہو اوروہ اپنے مالک پر بے فائدہ بوجھ ہو جدھر بھی (اس کا آقا)اسے بھیجے (وہ)کوئی بھلائی (کما کر )نہ لائے بِخَيْرٍ١ؕ هَلْ يَسْتَوِيْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ يَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ (پس)کیا وہ (شخص) اور وہ (دوسرا)شخص جو انصاف کرنے کاحکم دیتاہو اوروہ (خود بھی )سیدھی راہ پر (قائم) عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍؒ۰۰۷۷ ہو باہم برابر ہوسکتے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَبْکَمُبَکَمَ یَبْکَمُ بَکْمًاکے معنے ہیں خَرِسَ۔گونگاہوگیا۔فَھُوَ اَبْکَمُ۔اور اس سے صیغہ صفت اَبْکَمُ آتاہے۔(اقرب) اَلْکَلُّ اَلْمُصِیْبَۃُ۔اَلْکَلُّ کے معنے مصیبت۔اَلثَّقِیْلُ لَاخَیْرَ فِیْہِ۔ایسا بوجھ جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔اَلْعَیِّلُ الْعِیَالُ۔گھر کے لوگ جن پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔اَلثِّقَلُ۔بوجھ۔اَلضَّعِیْفُ۔کمزور۔وَیُطْلَقُ الْکَلُّ عَلی الْوَاحِدِ وَغَیْرِہِ اور کَلُّ کا لفظ واحد تثنیہ جمع سب کے لئے استعمال کرتے ہیں۔(اقرب)