تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 142

جولوگوں کو نظر نہ آتی تھی جیسے دعااوراستغفار۔اوروہ بھی جو لوگوں کو نظر آتی تھی۔جیسے وہ اخلاق فاضلہ جو بنی نوع انسان کے متعلق آپ سے ظاہر ہوتے تھے جن کا ذکر حضرت خدیجہؓ کے اس قول میں ہے کہ کَلَّاوَاللہِ مَایُخزِیْکَ اللہُ اَبَدًااِنَّکَ لَتَصِلُ الرِّحْمَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ (بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی) یعنی خدا کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگزنہ چھوڑے گا۔کیونکہ آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے اورمہمانوں کی خدمت کرتے ہیں اوران اخلاق کوظاہر کرتے ہیں جو دنیا سے مفقود ہوچکے تھے اورجو لوگ ایسے مصائب میں مبتلاہو ںجوناحق ان پر پڑ گئے ہوں ان کی آ پ مدد کرتے ہیں اورجوشخص بالکل بے بس ہوتاہے ا س کابوجھ آپ اٹھالیتے ہیں۔سِرًّاوَّجَھْرًا کے معنی رات اور دن کے ۲۔دوسرے معنے اس کے رات او ردن کے بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ رات کاکام مخفی ہوتاہے اوردن کا ظاہر۔اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ آپ نے خدمت خلق میں رات اور دن ایک کردئے ہیں اوربغیر آرام کرنے کے بنی نوع انسان کی بہتری میں کوشاں رہتے ہیں۔آنحضرت ؐ کا سِرًّاوَّجَھْرًا بنی نوع انسان کی خدمت کرنا ۳۔تیسرے معنے یہ ہیں کہ آپؐ وہ خدمات بھی کرتے ہیں جولوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔یعنی ان کی قدر نہیں جانتے جیسے تبلیغ حق۔کہ لو گ اپنی جہالت کی وجہ سے اُسے خدمت نہیں سمجھتے تھے حالانکہ وہ اعلیٰ درجہ کی خدمت تھی اورآپ وہ خدمات بھی کرتے ہیں جن کو لوگ پہچانتے ہیں اوران کی خوبی کااعتراف کرتے ہیں۔مثلاً ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک آدمی حضورکے پاس آیا اورعرض کیا کہ ابوجہل میراروپیہ نہیں دیتا۔آپ اُسی وقت اس آدمی کے ساتھ چل کھڑے ہوئے۔اورابوجہل کے دروازہ پر دستک دی۔ابوجہل باہر نکلا اورحضورکو کھڑے دیکھ کر حیران سارہ گیا اورآنے کی وجہ دریافت کی۔(کیونکہ وہ تودن رات آنحضرت صلعم کی ایذادہی اورسبّ وشتم میں مشغول رہتاتھا۔اس کے لئے آپ کا اس کے پا س آنا تعجب کاموجب تھا )آپؐ نے فرمایا کہ کیا تم نے اس شخص کاروپیہ دینا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں دینا ہے۔آپؐ نے فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو اس شخص کو پریشا ن نہ کروفوراً اس کاحق اداکرو۔وہ ایسا مرعوب ہواکہ گھر جاکر فوراً روپیہ لے آیا اوراس شخص کو دے دیا۔جب لوگوں میں اس بات کا چرچا ہواتولوگوں نے ابوجہل کوملامت کی کہ آپ ہم سے تویہ کہتے ہیں کہ اس کی کوئی بات نہ مانو اورخود اس سے ایسے ڈر گئے۔اس نے جوا ب دیا کہ کیا بتائوں اس وقت مجھے یہ معلوم ہوتاتھا کہ میں نے اس کی بات کاانکار کیا تو ایک وحشی اونٹ اسی وقت مجھ کوچباجائے گا اورمیں نے اس ڈر سے اس کی بات کو مان لیا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،ابوجھل أمر الأراشی۔۔۔۔)