تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 141

يَعْلَمُوْنَ۰۰۷۶ لوگ)برابر ہوسکتے ہیں (ہرگز نہیں )تمام تعریف (تو)اللہ (تعالیٰ)ہی کو (سزاوار)ہے۔لیکن ان میں سے اکثر(لوگ)جانتے نہیں۔تفسیر۔روحانی امور میں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حد پر کھڑا رہنا چاہیے چونکہ پہلی آیت میں اس طرف اشار ہ تھا کہ روحانی امور میں ا س حد پر کھڑا رہناچاہیے جواللہ تعالیٰ مقرر کر ے۔ورنہ انسان دھوکاکھا کر کہیں کاکہیں چلاجاتاہے اوراس طرف اشارہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ بعض بندوں کوعزت دے کر بعض پیار کے ناموں سے یادکرتاہے تواس کے اَورمعنے ہوتے ہیں اورمشرک جب ویسے ہی ناموں سے مخلوق میں سے بعض کو یاد کرتے ہیں تواس کے معنے اورہوتے ہیں۔آزاد اور غلام کی مثال میں آنحضرت ؐ کے لئے اچھے الفاظ کا استعمال اوراس کی مثال کے طور پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو اشارۃً پیش کیا اورفرمایاکہ کیا تم سوچتے نہیں کہ ایسا شخص جو ہو اوہوس کا شکار ہو اور عبد مملوک کی حیثیت رکھتاہو اوربوجہ دوسروں کاغلام ہونے کے اپنی قابلیتوں کاصحیح استعمال نہ کرسکتا ہو اوررسم و رواج اورتوہمات کی قیود میں جکڑاہواہو اوراسے ایک غلا م کی حیثیت حاصل ہو کیا ا س دوسرے شخص کی طرح ہو سکتا ہے جورسوم اورتوہمات کی غلامی سے آزاد ہو کر خدا تعالیٰ کی دی ہوئی طاقتوں سے ظاہر اورمخفی طور پر خدا تعالیٰ کے بندوں کی خدمت کرتا رہتا ہے۔یقیناًاللہ تعالیٰ اس شخص کی مدد کرے گا جو اس کی دی ہوئی قوتوںکو مفید طورپر اس کے بندوں کی خد مت میں لگاتا ہے اوریہی شخص کامیاب ہوگا۔اس مثال سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کی طرف اشارہ کیا گیاہے اوربتایا ہے کہ یہ شخص ہی خداکے فضلوں کاوارث ہو سکتا ہے اوراس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ جو بھی اچھے الفاظ استعمال فرمائے وہ ان کامستحق ہے۔محمد رسول اللہ کی کامیابی کی وجہ اس میں اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ تم تو خدا تعالیٰ کے دئے ہوئے انعامات سے صرف اپنے خاندانوںاوراولاد کو فائدہ پہنچاتے ہو اورمحمدؐ رسول اللہ سب دنیا کو اپنے انعامات میں شریک کرتاہے۔پس اس کی کامیابی یقینی ہے اور تمہاری ناکامی یقینی۔سِرًّاوَّجَھْرًا کے تین معنی سِرًّاوَّجَھْرًاکے تین معنے ہوسکتے ہیں :۔۱۔پوشیدہ طورپر بھی ظاہر بھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نوع انسان کی وہ خدمت بھی کرتے تھے