تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 140

سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ (الانبیاء :۲۷)یعنی مشرک کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے بیٹے پیداکئے ہیں یہ غلط کہتے ہیں جن کو خدا تعالیٰ بیٹاکہتا ہے وہ صرف اس کے مکرم بندے ہیں اوراللہ تعالیٰ کامنشاء اس لفظ کے استعمال سے ان کے اعزازکوظاہر کرنا ہوتا ہے جو انہیں اس کے حضورحاصل ہے۔مگرافسوس کہ نادان ان محاورات سے دھوکاکھاکر خدا تعالیٰ کے عاجز بندوں کو حقیقتاًخدا تعالیٰ کابیٹاسمجھنے لگتے ہیں اوربعض دوسرے نادان ان محاورا ت پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں۔آیت اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ الخ سے الہامی کلام میں ہر لفظ کی حقیقت پر مبنی ہونے کی طرف اشارہ اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْنَ میں اس طرف اشارہ کیا گیاہے کہ خدا تعالیٰ جو لفظ استعمال کرتاہے وہ ایک ایسی حقیقت پر مبنی ہوتاہے جواس کی دوسری صفات کے مخالف نہیں ہوتی۔مگرتم ایسے معنوں میں ان الفاظ کا استعمال کرتے ہو جومحض جہالت کااظہارکرتے ہیں۔ان سے کوئی حقیقت بھی توظاہر نہیں ہوتی۔مثلاًخدا تعالیٰ جن معنوں میں بیٹاکہتا ہے اس سے تو اس گہرے تعلق کااظہار مقصودہوتاہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے پاک بندوں سے ہے۔مگرمشرک اسے حقیقی بیٹا بنا کر کے اس پاکیز ہ تعلق کو ایک جسمانی تعلق بنادیتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کی عظمت کو بھی گرادیتے ہیں اوران بندوں کی بھی ہتک کرتے ہیں جن کو وہ معبود بناتے ہیں۔کیونکہ اس طرح وہ ان کے متعلق اس عظمت کا تو انکار کر دیتے ہیں جو عرفان اورقربانی سے حاصل ہوتی ہے۔اوروہ فرضی عظمت ان کو دیتے ہیں جو جسمانی تعلق سے حاصل ہوتی ہے اورجو پہلی کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا يَقْدِرُ عَلٰى شَيْءٍ وَّ اللہ(تعالیٰ تمہارے سمجھانے کو )ایک ایسے بندے کی حالت بیان کرتا ہے جو غلا م ہو (اور)جوکسی بات کی(بھی) مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ طاقت نہ رکھتا ہو اور(اس کے مقابلہ میں اس بندے کی حالت کوبھی )جسے ہم نے اپنےپاس سے اچھا رزق دیاہو جَهْرًا١ؕ هَلْ يَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا اوروہ اس میں سے پوشیدہ طورپر (بھی )اورعلانیہ طورپر (بھی ہماری راہ میں )خرچ کرتاہو۔کیاو ہ دونوں (قسم کے