تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 139

توان سے تواسے کوئی فائدہ ملتا نہیں ہاں یہ نقصان ضرو رپہنچ جاتاہے کہ اس ہستی کی طرف سے توجہ ہٹ جاتی ہے جو ان کو ہراک قسم کی نعمتیں دے سکتی ہے۔اس لئے ہمیشہ مشرک قوموں کی ذہنی ترقی رک جاتی ہے اوردینی امور میں ان کا فکر نہایت کُند ہو جاتا ہے۔اس کے مقابل پر جو اقوام مشرک نہیں ہوتیں اگرکسی وقت سچائی سے ہٹ بھی جائیں توان کی ذہنی ترقی کچھ نہ کچھ ہوتی رہتی ہے۔کیونکہ وہ اس وجود کے متعلق غور کرتی رہتی ہیں جس میں سب طاقتیں ہیں۔پس کچھ نہ کچھ سچائی ان کو بغیر الہام کے بھی ملتی رہتی ہے۔فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا پس (اے مشرکو)تم اللہ (تعالیٰ)کے متعلق (اپنے پاس سے )باتیں مت بنائو اللہ(تعالیٰ)یقیناً(سب کچھ)جانتا تَعْلَمُوْنَ۰۰۷۵ ہے اور تم (کچھ بھی)نہیں جانتے۔حلّ لُغَات۔لَاتَضْرِبُوْا لِلہِ الْاَمْثَالَکے معنے ہیں کہ تم اللہ کے متعلق باتیں مت بنائو۔مزید تشریح کے لئے دیکھو سورۃ رعد آیت نمبر۳۶۔زیر آیت النحل ۶۱جلدھٰذا۔تفسیر۔لَاتَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ کے معنی یعنی اللہ تعالیٰ کے متعلق خود قانو ن نہ بنائو کیونکہ تم تواللہ تعالیٰ کی قدرتوں تک سے ناواقف ہو۔وہ جس قدر حقوق دین کے بارہ میں بندوں کو دینا پسند کرتا ہے آپ ہی اپنے بندوں کو دے گااوران کو دے گاجن کو وہ ان کے اخلاص کی وجہ سے اپنی روحانی اولاد کامرتبہ بخشتاہے۔الہامی کلام میں خدا سے مراد بعض دفعہ الہامی کلام میں بعض نبیوںکو خدا تعالیٰ کے بیٹے کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے جیسا کہ مسیح علیہ السلام کے بارہ میں آتاہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے۔چنانچہ انجیل میں آتا ہے کہ مسیح نے حواریوں سے کہا کہ:۔’’پس تم جاکر سب قوموں کو شاگرد بنائو اورانہیں باپ اوربیٹے اورروح القد س کے نام سے بپتسمہ دو۔‘‘ (متی باب ۲۸آیت۱۹) اس جگہ بیٹے کے لفظ سے اسی طرف اشارہ کیاگیاہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کو برگزیدہ کرکے اپنی آسمانی بادشاہت کاوارث بنایا تھا۔قرآن کریم میں بھی اس مضمون کا ان الفاظ میں اشارہ کیا گیاہے وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا