تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 138

کاانکار کرتے ہو۔یہ انکار وہ کس طرح کرتے ہیں اس کا ذکر اگلی آیت میں کیاگیاہے۔وَ يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ اوروہ اللہ (تعالیٰ)کوچھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو آسمانوںاورزمین میں سے ان کے (دینے کے ) السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَيْـًٔا وَّ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ۚ۰۰۷۴ لئے کسی رزق کے ذرہ بھر (بھی)مالک نہیں اورنہ ہوسکتے ہیں۔حل لغات۔السَّمٰوٰتِ اور وَالْاَرْضَ کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر ۴۔السَّمٰوٰتُ۔سَمَاءٌ کی جمع ہے۔اَلسَّمَاءُ۔آسمان۔کُلُّ مَاعَلَاکَ فَاَظَلَّکَ۔ہر اوپر سے سایہ ڈالنے والی چیز۔سَقْفٌ کُلِّ شَیْءٍ وَبَیْتٍ چھت رِوَاقُ الْبَیْتِ برآمدہ۔ظَھْرُالْفَرَسِ گھوڑے کی پیٹھ۔اَلسَّحَابُ۔بادل۔اَلْمَطَرُ بارش۔اَلْمَطْرَۃُ الْجَیِّدَۃُ ایک دفعہ کی برسی ہوئی عمدہ بارش۔اَلْعُشْبُ سبزہ و گیاہ (اقرب) اَلْاَرْضُ: کرۂ زمین۔کُلُّ مَاسَفَلَ ہر نیچے کی چیز (اقرب) تفسیر۔شرک اللہ تعالیٰ پر ظلم ہے فرماتا ہےکہ ان کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کے اس حق کو تسلیم کیا ہے کہ ان کے مال اوران کی جائدادیں ان کی اولادوں کو ملیں۔مگریہ لوگ خدا تعالیٰ پر یہ ظلم کرتے ہیں کہ اس کے اختیارات اوراس کی حکومت ان کو دے دیتے ہیں جن کو اس نے اپنا وارث تجویز نہیں کیا۔یعنی خدا تعالیٰ تواپنے اختیارات سپرد نہیں کرتااوریہ کردیتے ہیں گویا اپنے متعلق توان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہمارے اختیارات انہیں ملیں جوہماری اولاد ہیں اورجن سے ہم تعلق رکھتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ چاہتے ہیں کہ اس کے اختیار ات خود ہی ان کے سپرد کردیں جن کو خدا تعالیٰ وہ اختیارات دینا نہیں چاہتا اور جن کو اس نے ایسے اختیارات نہیں دیئے۔حالانکہ اگر باوجود اس کے کہ ان کی جائدادیں حقیقی طورپر ان کی مقبوضہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں۔ان کو یہ حق حاصل ہے کہ جن کو اپنا وارث سمجھتے ہیں اپنی جائدادیں ان کو دے دیں تو خدا تعالیٰ کو کیوں اختیار نہیںکہ وہ اپنی منشاء کے مطابق اپنے دین کا وارث ان کو بنائے جنہیں وہ پسند کرتاہے۔شرک انسانی ترقی میں روک ہے اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کیاگیا ہے کہ شرک کی وجہ سے انسانی ترقی بھی رک جاتی ہے۔کیونکہ جب مشرک کی توجہ ان ہستیوں کی طرف ہوجاتی ہے جن کو کوئی طاقت حاصل نہیں