تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 132
بھی خود ہی حفاظت کی۔قو می زندگی کو لیا جائے تواس آیت میں یہ اشار ہ ہے کہ قوموں پر بھی بڑھاپاآتاہے اوروہ علم کو بھلا بیٹھتی ہیں۔اس وقت ایک نئی نسل کی ضرورت ہوتی ہے جن کو خدا تعالیٰ پھر نئے سرے سے اپنی وحی کے ذریعے سے تعلیم دے۔اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ کہہ کر اس طرف اشار ہ کیا کہ جس کاعلم قائم رہتاہے اورجوقدرت سے کام کرسکتا ہے ، الہام نازل کر نا اسی کاکام ہے۔وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِي الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِيْنَ اوراللہ (تعالیٰ)نے رزق میں (بھی تو)تم میں سے بعض کو بعض سے بڑھا یا (ہوا)ہے۔پھر جن لوگوں کو فضیلت دی فُضِّلُوْا بِرَآدِّيْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ گئی ہے وہ اپنا (مقبوضہ)رزق(کسی صورت میں بھی تو)ان کی طرف جن پر ان کے داہنے ہاتھ قابض ہیں لوٹانے فَهُمْ فِيْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ والے نہیں تاوہ اس میں برابر(کے حصہ دار)ہوجائیں۔پھر کیا وہ(اس حقیقت کے جاننے کے باوجود) اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ۰۰۷۲ اللہ (تعالیٰ) کی نعمت کا انکار کرتے ہیں۔حلّ لُغَات۔عَلیٰ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ ھُوَمَلَکَۃُ یَمِیْنِیْ کے معنے ہیں۔اَمْلِکُہُ وَأَقْدِرُعَلَیْہِ۔کہ میں اس کامالک ہوں اوراس پرپوراقابو رکھتا ہوں (اقرب)پس عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ کے معنے ہوں گے جن پر ان کے داہنے ہاتھ قابض ہیں۔نِعْمَۃ نِعْمَۃٌکے لئے دیکھو سور ۃ ہذا آیت نمبر ۵۴۔یَجْحَدُوْنَ یَجْحَدُوْنَ جَحَدَ سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔اورجَحَدَ حَقَّہٗ اور بِحَقِّہِ کے معنے ہیں۔اَنْکَرَہُ مَعَ عِلْمِہٖ بِہِ۔اس نے جان بوجھ کر کسی کے حق کاانکارکردیا۔کَفَرَ بِہٖ اس کا انکار کیا۔کَذَّبَہٗ۔اس کو