تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 131
عَلِيْمٌ قَدِيْرٌؒ۰۰۷۱ بعد(پھر)بے علم ہو جاتا ہے۔اللہ (تعالیٰ)یقیناً بہت جاننے والا (اور)ہربات پر پورا(پورا)قادرہے۔حلّ لُغَات۔اَرْذَلِ الْعُمُرِ اَرْذَلُ کے معنے ہیں اَلدُّوْنُ فِیْ مَنْظَرِہِ وَ حَالَاتِہِ۔اپنے حالات اور منظر میں حقیر۔اَلرَّدِّیُ مِنْ کلِّ شَیْءٍ۔ہرچیز کا ردّی حصہ۔اَرَذَلُ الْعُمُرِ۔اٰخِرُہُ فِیْ حَالِ الْکِبَرِ وَالْعَجْزِ۔بڑھاپے اورکمزوری میں عمر کاآخری حصہ۔عمر کی بدترین حالت (اقرب) پس وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلیٰ اَرْذَلِ الْعُمُرِ کے معنے ہوں گے کہ تم میں سے بعض ایسے ہیں جوعمر کی بدترین حالت کی طر ف لوٹادئے جاتے ہیں۔تفسیر۔مَنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِکا مطلب پچھلے رکوع میں تو اس با ت کا ذکر تھا کہ تمہارے معبود کلام الٰہی نہیں بناسکتے۔اس رکو ع میں اس بات کو واضح کیاگیا ہے کہ تم خود بھی کلام نہیں بناسکتے۔اب اسی سلسلہ میں ایک عام بات بیان فرمائی کہ کامل کلام تووہ بناسکتا ہے جس کے قبضہ میں پیدائش اورموت کا اختیار ہو۔پھر اپنی عقل پر بھی اُسے قبضہ حاصل ہو۔پس انسان کلام تیار نہیں کرسکتا۔کیونکہ نہ اس کے قبضہ میں پیدائش ہے کہ وہ اپنی تعلیم کے مطابق خاصیتیں دوسرے انسانوں میں رکھ دے نہ اس کے قبضہ میں موت ہے کہ وہ بعد الموت زندگی کے سامان پیداکرسکے۔نہ اس کے قبضہ میں عقل ہے کہ وہ ایسے وجود بنی نوع انسان کی تعلیم کے لئے مقرر کرسکے جن کی عقل ہمیشہ سلامت رہے۔کئی حکومتیں بہترین دماغ کے انسان چن کر پروفیسر مقرر کرتی ہیں لیکن وہ بوڑھے ہوکر اُلٹی سیدھی باتیں کرنے لگ جاتے ہیں۔اب یہ فرق کو ن کرے کہ کس وقت سےان کے دما غ میں فتور شروع ہواہے کہ اس وقت کی باتوں کو ردّی قرار دے۔پس کئی شاگرد ایسے ضعیف دماغ کی باتوں کو صحیح سمجھ کر گمراہ ہوجاتے ہیں۔پس کلام ہدایت خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آسکتاہے۔کیونکہ وہی انسان کاپیداکرنے والا ہےاور اس کی ضرورتوں کو سمجھتا ہے وہی وفات دینے والا ہے اوربعدالموت اس کی رہنمائی کافرض اداکرسکتا ہے اُسی کے قبضہ میں انسانی عقل ہے۔پس وہ جن لوگوں کو اس وحی کے کام پر مقررکرتا ہے ان کی عقلوں کی صحت کابھی ضامن ہوتاہے۔کوئی نبی ارذل العمر تک نہیں پہنچا سوچنے والوں کے لئے یہ ایک بہت بڑانشان ہے کہ آج تک کو ئی نبی دنیا میں نہیں گذراجو ارذل العمر تک پہنچا ہو اورجس کی نسبت یہ کہا جاسکے کہ فلاں وقت دماغی کمزوری کی وجہ سے اس کی باتوں کااعتبار نہیں رہاتھا۔کیا سینکڑوں نبیوں میں سے جن کو دنیا جانتی ہے ایک بھی ایسی مثال کا نہ ملنا اس امر کاثبوت نہیں کہ ان کو بھیجنے والا عقل انسانی کامالک ہے۔اس لئے اس نے جن کو اپنے بندوں کی تعلیم پر مقرر کیا ان کی عقل کی