تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 130

دے۔جب وہ اپنی فطرت کو پاک رکھے اوراس وحی پر عمل کرے جو وحی خفی کے رنگ میں ہرانسان بلکہ ہر مخلوق پر نازل ہوتی ہے۔توپھر اللہ تعالیٰ اس پر وہ وحی نازل کرتاہے جوشہد کی مانند ہوتی ہے۔یعنی خالص ہوتی ہے اوراس میں بنی نوع انسان کے لئے شفاء کی خاصیت ہوتی ہے۔یعنی انسانی کمزوریوں کو دورکرکے انسان کو کامل بنادیتی ہے۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً میں وحی الٰہی کے بغیر کسی کام کے نہ چل سکنے کی طرف اشارہ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠۔اس میں اس طر ف اشارہ کیاگیاہے کہ بغیر وحی الٰہی کے دنیا میں کوئی کام نہیں چلتا۔جوانسان کہتاہے کہ میں خود ہدایت کاکام کرلوں گا وہ غلطی پر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون پر خاص زوردیاہے۔آپ فرماتے ہیں کہ انسانی کوشش دنیوی امورمیں بہ منزلہ دعا کے ہے اوراس کے نتیجہ میں انسان کے ذہن میں جو تدبیرآتی ہے وہ بھی وحی ہے۔غرض مکھی کی مثال سے یہ بتایا ہے کہ کلام الٰہی کے بغیر کامیاب زندگی ناممکن ہے حتیٰ کہ جانور بھی وحی کے محتاج ہیں اوران پر ایک قسم کی وحی نازل ہوتی ہے جس کی نمایاں مثال شہدکی مکھی میں پائی جاتی ہے۔پس جبکہ موجودات کے ہر طبقہ کے لئے خدا نے وحی نازل کی ہے حالانکہ ان کی زندگی محدود اورعقل مختصرہےتوانسان جس کی زندگی کااثر اگلے جہان پر بھی پڑتا ہے اس کانظام بغیر وحی کے کس طرح چل سکتاہے۔کلام الٰہی بھی شہد کی طرح شفاء کی تاثیر رکھتا ہے قرآن کریم کے متعلق متعدد جگہ وہی الفاظ آئے ہیں جو شہد کے بارہ میں اس آیت میں آئے ہیں اوران سے یہ بتایا ہے کہ یہ کلام اپنے اندروہی خاصیت رکھتاہے جووحی کے نتیجہ میں پیداہوتی ہے یعنی شفاء کی تاثیر۔چنانچہ سورۃ بنی اسرائیل رکوع ۹ میں فرماتا ہے وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ(آیت :۸۳)۔سورۃ یونس رکوع ۶ میں فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ(آیت :۵۸)۔پھر حٰم سجدہ رکوع ۵ میں فرماتا ہے قُلْ ھُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھُدًی وَّشِفَآءٌ(آیت :۴۵)۔وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ يَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرَدُّ اِلٰۤى اوراللہ(تعالیٰ)نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر وہ تمہاری روحیں قبض کرتاہے اور تم میں سے بعض(بعض آدمی ) اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْ لَا يَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَيْـًٔا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ ایساہوتاہے کہ وہ عمر کی بدترین حالت کی طرف لوٹادیاجاتاہے جس کے نتیجہ میں وہ علم (والاہونے )کے