تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 128
پہاڑوں میں چھتے بناتی ہیں ،بعض میدان کے درختوں پر اوربعض گھروں یا ان عرشوں پر جو انگور وغیرہ کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔اس سے اس طرف اشار ہ کیا ہے کہ انسانوں میں سے مَوردِ وحی بھی ایک سے نہیں ہوتے۔بعض کا مقام پہاڑ پر ہوتاہے بعض کادرخت پر اوربعض کاچھتوں اورعرشوں پر۔یعنی بعض بہت اونچے مقام کے ہوتے ہیں بعض ان سے ادنیٰ اوربعض ان سے ادنیٰ۔اس میں گویا اسی مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے جو آیت تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَابَعْضَہُمْ عَلیٰ بَعْضٍ(البقرة:۲۵۴)میں بیان کیاگیا ہے۔ثُمَّ كُلِيْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِيْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ پھر ہرقسم کے پھلوں میں سے (تھوڑاتھوڑالےکر )کھااوراپنے رب کے (بتائے ہوئے )طریقوں پر جو(تیرے لئے ) يَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِيْهِ آسان (کئے گئے )ہیں چل۔ان(مکھیوں )کے پیٹوں سے (تمہارے )پینے کی ایک (لطیف )چیز نکلتی ہے جو شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً مختلف رنگوں کی ہوتی ہے (اور)اس میں لوگوں کے لئے شفاء (کی خاصیت رکھی گئی )ہے۔جولوگ سوچ (اورفکر ) لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠۰۰۷۰ سے کام لیتے ہیں ان کے لئے اس میں یقیناً کئی نشان(پائے جاتے)ہیں۔حلّ لُغَات۔اُسْلُکِیْ :اُسْلُکِیْ سَلَکَ سے امر مؤنث مخاطب واحد کاصیغہ ہے۔اورسَلَکَ الْمَکَانَ سَلْکًاکے معنے ہیں :دَخَلَ فِیْہِ۔وَکَذَاسَلَکَ الطَّرِیْقَ دَخَلَہٗ سَارَفِیْہِ مُتَّبِعًا اِیَّاہُ۔کسی جگہ میں داخل ہوا۔یاکسی راستہ پر چلا۔اس سے اسم فاعل سَالِکٌ آتاہے (اقرب)مزید تشریح کے لئے دیکھو حجرآیت نمبر ۱۴۔نَسْلُکُ سَلَکَ سے مضارع جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اورسَلَکَ الْمَکَانَ سَلْکًا وَسُلُوْکًا کے معنی ہیں دَخَل فِیْہِ کسی جگہ میں داخل ہوااوراس کے اندر گیا سَلَکَ الطَّرِیْقَ اَیْ دَخَلَہٗ وَسارَفِیْہِ مُتَّبِعًااِیَّاہُ۔فَھُوَ سَالِکٌ۔اورسَلَکَ الطَّرِیْقَ کے معنی ہیں۔راستہ اختیار کرکے اس پر چل پڑااوراس سے اسم فاعل سَالِکٌ (یعنی