تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 119

کیونکہ طبعاً ہرشخص اپنے خیالات کو دوسروں کے خیالات پر ترجیح دیتاہے۔انبیاء کی بعثت کی ضرورت اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تم کو پہلے نبیوں کے بعد دوسرے نبی کے آنے پراعتراض ہے۔دوسرانبی توخود تمہارے اعمال کی وجہ سے آیا ہے تم نے سچائی کو چھوڑ کراختلاف کیوں کیا۔تم اختلا ف نہ کرتے توبے شک نبی کی ضرورت نہ ہوتی مگر تم نے مرض توپیداکرلی اب کہتے ہوکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کسی اختلاف کودورکرنے والے شخص کی آمد کی ضرورت نہیں۔مذکورہ بالامضمون پر یہ سوال کیا جاسکتاہے کہ فرض کرولوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت پر ہی عمل کرتے رہتے اوراختلاف نہ کرتے توکیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ کامل شریعت یاکامل تعلیم نہ آتی ؟ ا س کا جواب یہ ہے کہ یہ فرضی کلام ہے۔حقیقتاً نہ اختلاف کرنے سے لوگوں نے رکناتھا اورنہ اس تعلیم کے آنے میں روک پیداہونی تھی۔مگر بفرض محال ایسی صورت ہوتی بھی تواللہ تعالیٰ نے ا س کایہ جواب دیاہے کہ لَوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ۠ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا(بنی اسرائیل :۹۶)اگر دنیا میں سب فرشتے ہی فرشتے ہوتے یعنی سب کے سب انسان نیک ہوتے تو ہم ان میں سے ہرایک شخص پر اپنا کلام نازل کرتے یعنی اس صورت میں ایک نبی قوم کی طرف نہ بھیجا جاتا بلکہ سب ہی نبی ہوجاتے اورانکا راورکفر کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا۔مگر نہ دنیاسب کی سب نیک بنی نہ خدا تعالیٰ نے نبیوںکے سلسلہ کوبندکیا۔هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ میں مضمون کے دوسرے پہلو کو لیا کہ جو اختلاف کرتے ہیں ان کے لئے تیرا یہ کام ہے کہ قرآن کریم کے روسے ان کے اختلاف دور کرے اورجو مومن ہیں ان کے لئے ترقیء مدارج اور رحمت کے حصول کاذریعہ اس قرآن کو بنائے۔وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ اوراللہ (تعالیٰ)نے (ہی)آسمان سے (عمدہ )پانی اتاراہے اوراس کے ذریعہ سے ا س نے تمام زمین کواس کے بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً مردہ ہوچکنے کے بعد (ازسرنو)زندہ کیا ہے۔جولوگ(حق بات کو)سنتے (اوراسے قبول کرنے کے لئے