تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 117
الْكَذِبَ کے معنے ہوں گے۔ان کی زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں۔اَلْحُسْنٰی کے معنے کے لئے دیکھو رعد ۱۹۔یونس ۲۷۔اَلْحُسْنٰی: ضِدُّ السُّواَی۔حسنی۔سوی۔یعنی برائی کے مقابل کا لفظ ہے اور اس کے معنے ہیں اَلْعَاقِبَۃُ الحَسَنَۃُ۔اچھا انجام۔الظَّفَرُ کامیابی۔(اقرب) لَاجَرَمَ کے معنے کے لئے دیکھو ھودآیت نمبر ۲۳و آیت نمبر ۲۴ سورۃھذا۔مُفْرَطُوْنَ۔اَفْرَطَ سے اسم مفعول مُفْرَطٌ آتاہے اور مُفْرَطُوْنَ اس کی جمع ہے۔اَفْرَطَ الْاَمْرَ کے معنی ہیں نَسِیَہٗ۔کسی بات کوبھول گیا۔تَرَکَہٗ وَخَلَّفَہ۔اس کو پیچھے چھوڑ دیا۔اَفْرَطَ عَلَیْہِ:حَمّلَہُ مَالَایُطِیْقُ:اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا۔وَمَا اَفْرَطْتُ مِنَ الْقَوْمِ اَحَدًا کے معنے ہیں اَیْ مَاتَرَکْتُ میں نے لوگوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑا(اقرب)پس اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَکے معنے ہوں گے۔انہیں اس میں چھوڑ دیاجائے گا۔تفسیر۔اس آیت میں پہلے مضمون کی طرف پھر ایک اوررنگ میں رجوع کیا ہے۔فرماتا ہے کہ یہ لوگ کس طرح یقین رکھتے ہیں کہ ان کاانجام اچھاہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ کی نسبت وہ باتیںمنسوب کرتے ہیں جن کو یہ خود بھی ناپسند کرتے ہیں۔جواللہ تعالیٰ کی طرف عیب منسوب کرتے ہیں ان کاانجام کس طرح اچھا ہوسکتا ہے۔اَنَّھُمْ مُّفْرَطُوْنَ کا مطلب وَاَنَّھُمْ مُّفْرَطُوْنَ میں یہ بتایاگیا ہے کہ جس طرح انہوں نے خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیاہے ان کو بھی اللہ تعالیٰ عذاب میں ڈال کر چھوڑ دے گااوروہ خبرنہ لے گا۔تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ اللہ (تعالیٰ)کی قسم !ہم نے تجھ سے پہلے کی(تمام)امتوں کی طر ف رسول بھیجے تھے پھر انہیں شیطان نے ان کے الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ (بد)اعمال خوبصورت کرکے دکھائے سوآج وہی ان کا آقا(بناہوا)ہے اوران کے لئے (آج )دردناک