تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 116
نیک بھی ہوتے ہیں۔مگر یہ توضروری نہیں کہ نیکوں کے باپ داداآدم تک سب نیک ہی ہوں۔پس اگران کے باپ دادوں کو پکڑاجاتا اوروہ ہلاک کردیئے جاتے توساتھ ہی ان کے وہ نسل بھی غائب ہوجاتی جس نے آئندہ کسی زمانہ میں نیک ہوناتھا۔پس اگر ہرگناہ پر اس دنیا میں گرفت کاقانون جاری ہوتومانناپڑے گاکہ دنیا کبھی کی تباہ ہوجانی چاہیے تھی مگرایسانہیں۔ہر گناہ کی سزا فوری نہیں ملتی معلوم ہواکہ ہر گناہ کی سزافوراً نہیں ملتی اوریہ مزید ثبوت یوم آخرت کا ہے جہاں جزاسزاکاعمل تکمیل تک پہنچ جائے گا۔اگر اس د ن کونہ ماناجائے تو خدا تعالیٰ کا فیصلہ نامکمل رہ جاتاہے۔آیت مَا تَرَكَ عَلَيْهَا الخ پر ایک سوال اور اس کا جواب ایک سوا ل اس آیت کے متعلق یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیو ں فرمایاگیا ہے کہ اگر ہرگناہ پراسی دنیا میں گرفت ہوجاتی تو اس دنیا کے پردہ پر کوئی حیوان نہ رہتا۔مکلف توانسان ہیں سزاملتی توانسان کوملتی دوسرے حیوان کیوں ہلاک ہوجاتے۔اس کا جواب یہ ہے کہ جیساکہ شروع سورۃ میں بیان کیا گیا ہے باقی حیوان انسان ہی کے فائدہ کے لئے پیداکئے گئے ہیں۔پس جب انسان ہلاک کردیاجاتا توان کی بھی ضرورت نہ رہتی اورعام قیامت آجاتی۔وَ يَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا يَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اورو ہ اللہ (تعالیٰ)کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے وہ (خوداپنے لئے )ناپسند کرتے ہیں اوران کی اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى ١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ زبانیں(بڑی جرأت سے کام لے کریہ)جھوٹ بولتی ہیں کہ انہیں بھلائی ملے گی یہ اٹل بات ہے کہ ان کے لئے مُّفْرَطُوْنَ۰۰۶۳ (دوزخ کی )آگ(کاعذاب مقدر)ہے اوریہ کہ انہیں(اس میں )چھوڑ دیاجائے گا۔حلّ لُغَات۔تَصِفُ تَصِفُ وَصَفَ سے مضارع واحد مؤنث غائب کاصیغہ ہے۔اوروَصَفَ الشَّیْ ءَ کے معنے ہیں۔نَعَتَہٗ بِمَافیہ وَحَلَّاہٗ۔کسی چیز کو پورے طورپر اورعمدہ طریق سے بیان کیا۔وَصَفَ الطَّبِیْبُ لِلْمَرِیْضِ:بَیَّنَ لَہٗ مَایَتَدَاوَی بِہٖ۔طبیب نے مریض کوعلاج کے لئے دوابتائی (اقرب) پس تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ