تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 115
يَسْتَقْدِمُوْنَ۠۰۰۶۲ (کربچ)سکتے ہیں اورنہ (اس سے)آگے نکل (کربچ) سکتے ہیں۔حلّ لُغَات۔دَآبَّۃٌ دَآبَّۃٌ کے لئے دیکھو نحل آیت نمبر ۵۰۔اَجَلٌ اَجَلٌ کے معنے کے لئے دیکھو رعدآیت نمبر۳۹۔اَلْاَجَلُکے معنے ہیں مُدَّۃُ الشَّیْءِ۔کسی چیز کی مدت۔وَوَقْتُہُ الَّذِیْ یَحِلُّ فِیْہِ۔کسی امر کی وہ مدت جب جاکر وہ واقعہ ہوتا ہے۔(اقرب) السَّاعة۔السَّاعَةُکے معنے ہیں اَلْوَقْتُ الْحَاضِرُ۔موجودہ وقت۔اَلْقِیَامَۃُ۔قیامت۔وَقِیْلَ الْوَقْتُ الَّذِیْ تَقُوْمُ فِیْہ الْقِیَامَۃُ۔اوربعض نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ وہ وقت جبکہ قیامت برپاہوگی۔وَعِبَارَۃٌ عَنْ جُزْءٍ قَلِیْلٍ مِنَ النَّہَارِ اَوِاللَّیْلِ:رات یادن کے تھوڑے حصے کو بھی ساعۃ کہتے ہیں۔جب یہ کہیں کہ جَلَسْتُ عِنْدَکَ سَاعَۃً مِنَ النَّھَارِ اَوِاللَّیلِ تواس کے معنے ہوتے ہیں۔اَیْ وَقْتًا قَلِیْلًامِنْہُ۔یعنی میںتمہارے پاس کچھ دیر بیٹھارہا۔(اقرب) تفسیر۔آیت مَا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَآبَّةٍ سے کفار کے ایک شبہ کا ازالہ اس میں کفارکے ایک شبہ کاازالہ کیا ہے جو پہلی آیت سے پیداہوسکتاتھا۔اوروہ یہ ہے کہ اگرانسان غلط تعلیم دیتاہے اورخدا کی کلام ہی سے ہدایت ملتی ہے توچاہیے تھا کہ سب کفار ہلاک ہوجاتے مگروہ توہلاک نہیں ہوئے بلکہ دنیا میں کئی قسم کی ترقیاں ان کو ملتی ہیں معلوم ہواکہ وہ بھی کوئی زیادہ غلطی پر نہیں ہیں یایہ کہ وہ بھی حق پر ہیں۔اس شبہ کایہ جواب دیا کہ کلام الٰہی کوتوخیر تم نہیں مانتے لیکن بعض امورکو توتم بھی خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف سمجھتے ہو۔مثلاً چوری ،ڈاکہ،قتل وغیرہ۔کیا ان جرائم کے مرتکب فوراً پکڑ لئے جاتے ہیں۔اگرنہیں توا س ڈھیل کودیکھتے ہوئے تم الٰہی کلام کے منکروں پر فوری گرفت نہ آنے کی وجہ سے یہ کس طرح استدلال کرسکتے ہو کہ یہ کلام خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ورنہ اس کے انکارپر فوراً گرفت ہوتی اورکوئی کافر نہ بچتا۔فوری سزا نہ آنے کی وجہ پھر اس فوری گرفت نہ ہونے کی وجہ بھی بتائی کہ یہ ڈھیل کاقانون اللہ تعالیٰ نے اس لئے جاری کیاہے کہ اس کے بغیر نسل انسانی چل ہی نہیں سکتی۔کیونکہ اگر ہرجرم کی سزامیں انسان کو فوراً تباہ کردیاجاتا تودنیا پر انسان کی نسل کس طرح باقی رہتی۔اگر کوئی کہے کہ دنیا میں نیک بھی توہیں تواس کا جواب یہ ہے کہ بے شک