تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 112

گے۔یااُسے مٹی میں دبادے۔گاڑدے۔تفسیر۔یعنی باوجود پدری محبت کے اس تذبذب میں پڑجاتاہے کہ ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یااس بے چاری کو زندہ درگورکردے۔لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کا رواج سارے عرب میں نہ تھا اس بارہ میں یہ امر یادرکھنا چاہیے کہ عام طور پر لوگوں کو یہ غلطی لگی ہو ئی ہے کہ لڑکیوں کو زندہ درگو ر کرنے کارواج عربوں میں عام تھا۔لیکن یہ بات نہیں۔اگر ایساہوتاتوپھر ان کے ملک میں لڑکیوں کی تعداد بہت کم ہوجانی چاہیے تھی۔اصل بات یہ ہے کہ بے شک لڑکی کی پیدائش کوتوعرب کے سارے ملک میں ہی براسمجھاجاتاتھا مگران کو زندہ دفن کرنے کارواج عملاً صرف بعض بڑے بڑے اورمتکبر لوگوں میں تھا۔لڑکی کی پیدائش کو براسمجھنااوربات ہے اوراسے زندہ درگورکردینا اور۔آج تک لو گ لڑکی کی پیدائش کو عموماً براسمجھتے ہیں اِلَّامَاشاء اللہ۔مگرانہیں مارتے چند ہی لوگ ہیں۔لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کے ذکر میں صرف قوم کے عمائدین کا ذکر ہے عرب میں بھی یہ فعل مکہ میں بہت ہی کم ہوتاتھا۔عام طورپر ان قبائل میں جواپنے آپ کو بہت بڑاسمجھتے تھے یہ طریق رائج تھا او روہ بھی بعض بڑے لوگوں میں۔پس ا س جگہ عام رسم کا ذکرنہیں بلکہ قوم کے عمائدین کے ایسے فعل کو بیان کیاگیا ہے جس کی نقل گوساری قوم نہیں کرتی تھی مگر اسے ایک عزت کافعل سب سمجھتے ہیں۔(تاریخ الاسلام السیاسی تالیف ڈاکٹر ابراہیم حسن جلد اول ص ۶۵ مکتبۃ الحفظۃ المصریۃ بالقاہرۃ) اَلَاسَآئَ مَایَحْکُمُوْنَ کا مطلب اَلَا سَآءَ مَا يَحْكُمُوْنَ میں بتایا ہے کہ وہ جوبیٹیوں کو براسمجھتے ہیں ان کا یہ فعل نہایت ہی گندہ ہے اگر بیٹیاں نہ ہوتیں تووہ کس طرح پیدا ہوتے۔اوراگر آئندہ بیٹیاں نہ ہوںتوان کے بیٹوں کی نسل کس طرح چلے۔قرآن مجید کے ذریعہ عورتوں کی عزت کا قیام قرآ ن کریم نے شروع سے ہی عورتوں کی عزت کوقائم کیا ہے اوران کے حق کو تسلیم کیا ہے۔مگر باوجوداس کے اب تک یہ کہاجاتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر ظلم کیا۔بھلاوہ کون سی کتاب ہے جس میں ابتداء ہی سے عورت کے حقوق کی حفاظت اورنگہداشت کی گئی ہو۔وہ صرف اورصرف قرآن مجید ہی ہے۔