تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 103
ہے جوسچی توحید کی طر ف رہنمائی کرتاہے اورانسانی دماغ کوتشطّط اورپراگندگی سے بچاتاہے۔وَ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّيْنُ وَاصِبًا١ؕ اورجوکچھ (بھی)آسمانوں اورزمین میں (پایاجاتا)ہے اِسی کا ہے اوراطاعت ہمیشہ اسی کاحق ہے پھر کیا تم اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ۰۰۵۳ اللہ(تعالیٰ)کے سوااوروں کواپنے بچائوکاذریعہ بناتے ہو۔حل لغات۔الدّیْنُ الدِّیْنُکے لئے دیکھو یوسف آیت نمبر ۷۷۔دَانَ دِیْنًا: اَطَاعَ۔دَانَ جس کا مصدر دَیْنٌ ہے اس کے معنے ہیں اطاعت کی فُلَانًا: خَدَمَہُ خدمت کی۔خدمت ادا کی۔حَکَمَ عَلَیْہِ۔حکم لگایا فیصلہ کیا۔اَلدِّیْنُ: اَلطَّاعَۃُ دین کے معنی ہیں فرمانبرداری۔القَضَاءُ۔فیصلہ۔(اقرب) وَاسْتُعِیْرَ لِلشَّرِیْعَۃِ۔اور یہ لفظ بالواسطہ شریعت یا قانون کے معنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(مفردات) واصبًا وَصَبَ الشَّیْءُ(یُصِبُ وَصُوْبًا) کے معنے ہیں دَامَ وَثَبَتَ۔کوئی چیز قائم و دائم رہی۔وَصبَ الدَّیْنُ:وَجَبَ۔قرضہ کی ادائیگی واجب ہوگئی۔وَصَبَ فُلَانٌ عَلَی الْاَمْرِ : وَاظَبَ وَاَحْسَنَ الْقِیَامَ عَلَیْہِ کسی امر پر دوام اختیار کیا اوراس پراچھی طرح کاربند رہا۔اَلْوَاصِبُ : الدَّائِمُ۔ہمیشہ رہنے والا۔لَهُ الدِّيْنُ وَاصِبًا کے معنے ہیں دائـمًاکہ اطاعت ہمیشہ اسی کاحق ہے (اقرب) تفسیر۔آیت وَ لَهُ الدِّيْنُ وَاصِبًا میں شرک کے رد میں ایک زبردست دلیل شرک کے ردّمیں یہ ایک نہایت زبردست دلیل ہے جسے قرآن مجید نے متعدد جگہ پر پیش کیاہے۔فرماتا ہے آسمان و زمین کے نظام پر غور کر و۔کائنا ت عالم کو دوربین نگاہ سے دیکھو توتمہیں سب جگہ پر ایک ہی قانون جاری نظر آئے گااوریہ تمام اشیاء ایک انتظام میں منسلک نظرآئیں گی جب قانون ایک ہے توبادشاہ دویازیادہ کیسے ہوسکتے ہیں۔اگر کوئی دوسرا خداہوتا توضروری تھا کہ ہمیں دنیا میں قانون کااختلاف نظرآتا۔کیونکہ دوسرے خدا کاوجود ماننے کی صورت میں نظامِ عالم کی دوہی صورتیں ہوسکتی ہیں:۔