تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 101

بِبَاطِلٍ لِاَنَّ الْاَسْمَائَ تَتَّبِعُ الْاعْتِقَادَ لَا مَاعَلَیْہِ الشَّیْءُ فِیْ نَفْسِہِ۔یعنی ہر معبود پر اِلٰہٌ کا لفظ بولتے ہیں خواہ وہ سچا ہویاجھوٹا۔کیونکہ اشیاء کانام اعتقاد پررکھاجاتاہے نہ اس بات کو مدنظررکھ کرکہ وہ چیز اپنے نام کے مطابق اپنے اندرحقیقت بھی رکھتی ہے یانہیں۔(اقرب) وَاحِدٌ کے معنے کے لئے دیکھو رعدآیت نمبر۱۷۔اَلْوَاحِدُ بِمَعْنَی الْاَحْدِ اَیْ اَلْمُنْفَرِدِ الَّذِیْ لَانَظِیْرَ لَہٗ اَوْلَیْسَ مَعَہٗ غَیْرُہٗ۔ایسایکتا کہ جس کا کوئی نظیر نہ ہو یا اس کا کوئی شریک نہ ہو۔اور انہی معنوں میں یہ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوا ہے۔(اقرب) فَارْھَبُوْن اِرْھَبُوا۔رَھَبَ سے جمع مخاطب کا صیغہ امر ہے۔اوررَھِبَ الرَّجُلُ رَھْبَۃً کے معنے ہیں : خَافَ۔ڈر گیا (اقرب) اِرْھَبُوْنِ اصل میںاِرْھَبُوْنِیْ تھا۔نِیْ کو گرایاگیا۔پھر نِ کو جسے نون وقایہ کہتے ہیں لایا گیا اورصرف کسرہ پر اکتفاء کیا گیا۔پس اِرْھَبُونِ کے معنے ہوں گے کہ مجھ ہی سے ڈرو۔(اس کے لئے دیکھو سورۃ بقرہ ع ۵) اِرْھَبُوْا۔جمع مخاطب کا صیغہ امر ہے اور رَھُبَ الرَّجُلُ (یَرْھَبُ رَھْبَۃً) کے معنے ہیں خَافَ ڈر گیا (اقرب) اِرْھَبُوْنِ اصل میں اِرْھَبُوْنِیْ تھا۔ی کو گراد یا گیا اور نونِ وَقایۃ کے کسرہ پر اکتفا کیا گیا۔اِرْھَبُوْنِ کے معنے ہیں مجھ سے ڈرو۔تفسیر۔اِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ کی ترکیب فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ۔اصل میں فَاِیَّایَ ارْھَبُوْا فَارْھَبُوْنِ ہے جس کے معنے ہیں پس مجھ ہی سے ڈروہاں میں پھر کہتا ہوں کہ تم مجھ سے ڈرو اِرْھَبُوْا کو حذف کردیاگیا اورفَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِرہ گیا۔فَاِيَّايَ بعد کے فعل یعنی فَارْهَبُوْنِ کامعمول نہیں بن سکتا۔کیونکہ درمیا ن میں ف آئی ہے۔اس لئے اس فعل سے پہلے ایک اِرْھَبُوْا محذوف ماناجائے گا۔اس طرزِکلام سے مقصود مضمون پرزوردینا ہوتاہے۔یعنی رہب اورخوف صرف خداہی سے ہوناچاہیے۔اِلٰھَیْنِ اثْنَیْنِ کے الفاظ میں جمع کو چھوڑ کر تثنیہ کے ذکر کرنے میں تین حکمتیں اِلٰھَیْنِ اثْنَیْنِ۔یہ جو فرمایاکہ دومعبود نہ بنائو اس پر اعتراض ہوتاہے کہ دوکالفظ کیوں فرمایا۔جمع کاصیغہ رکھ کر یہ کیوں نہ فرمایا کہ لَاتَتَّخِذُوْآاٰلِھَۃً ایک سے زیادہ معبود نہ بنائو۔اس سے تویہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسے زائد خدابنانے جائز ہیں۔ایسا اعتراض قلّتِ تدبر سے پیدا ہوتاہے کیونکہ اس کے آگے ہی یہ الفاظ ہیں اِنَّمَاھُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ خداصرف ایک ہے۔ان الفاظ کی موجودگی میں یہ شبہ پیداہی نہیں ہوسکتا کہ دوسے زیادہ خداماننے جائز ہیں۔پس دوکا لفظ ایک کے مقابل