تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 100
خدمت پرجن کو لگایاگیا ہے وہ توکامل فرمانبردار ہیں وہ توپورے زور سے کام میں لگ جائیں گے مگر تمہارے اتباع توتمہار ی اس طرح فرمانبرداری نہیں کریں گے اس لئے تمہارانظام کھوکھلااورناقص ہوجائے گا۔لفظ دابة کے استعمال کی وسعت اس آیت میں دابّـة کالفظ استعمال کیا گیا ہے اوردابہ کاعام استعمال چوپایوں کے لئے ہے پھر اس جگہ یہ لفظ کیوں استعمال کیا گیا ؟اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لفظ دَبّ سے ہے جس کے معنے آہستگی سے چلنے کے ہیں اورا س کااسم فاعل دَابٌّ اورمؤنث دَابَّۃٌ ہے انہی معنوں میں اس جگہ یہ لفظ استعمال ہواہے اورانسان اس میں شامل ہیں۔يَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ يَفْعَلُوْنَ مَا وہ اپنے رب سے جو ان پر غالب ہے ڈرتے رہتے ہیں۔اورجس بات کا انہیں حکم دیاجاتاہے يُؤْمَرُوْنَؑ۰۰۵۱ (وہی)کرتے ہیں۔تفسیر۔يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَکے الفاظ میں ہاروت و ماروت کے قصے کا ابطال یہ ملائکہ کی صفت بیان فرمائی ہے اس سے ہاروت ماروت کا قصہ بھی باطل ہو جاتا ہے۔فرشتے تواللہ تعالیٰ سے خوف کرتے اور اُس کے حکمو ں پر عمل کرتے ہیں وہ اس کے حکمو ںکوتوڑنے والے نہیں ہوسکتے۔مِنْ فَوْقِهِمْ۔یہ ترکیب میں رب کاحال ہے یعنی فرشتے اس حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں جبکہ وہ ان کے اوپر ہے یعنی ان پر غالب ہے۔وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَيْنِ اثْنَيْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ اوراللہ(تعالیٰ)نے(ہمیشہ ہرقوم کو یہی )فرمایا ہے (کہ)تم دومعبود مت بنائو۔وہ (یعنی معبود برحق تو)ایک ہی ہے وَّاحِدٌ١ۚ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ۰۰۵۲ پس تم مجھ سے ہی (ڈرو)پھر(تم سے کہتا ہوں کہ)مجھ سے ہی ڈرو۔حلّ لُغَات۔اِلٰھَیْن اِلٰھَیْنِ اِلٰہٌ سے تثنیہ کاصیغہ ہے اوراَلْاِلٰہُ کے معنے ہیں اَلْمَعْبُوْدُ مُطْلَقًابِحَقٍّ اَوْ