تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 99
سائے بڑھیں گے اورکس کے گھٹیں گے۔اور چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے جانے والے تھے اوراس آیت میں بھی ہجرت کا ذکر ہوچکا ہے اس لئے آپؐ گویاشمالی علاقہ کی طرف جانے والے تھے اورمکہ والے آپ سے جنوب میں آنے والے تھے۔پس اگر کوئی شخص دونوں ملکوں کی سرحد پر کھڑاہوکر مشرق کی طرف منہ کرے تومکہ اس کے دائیں آئے گااورمدینہ اس کے بائیں آئے گا۔پس یمین وشمائل سے مکہ اورمدینہ مراد ہیں اور میرے نزدیک اسی وجہ سے یمین کو مفرد استعمال کیا ہے اورشمال کو جمع استعمال کیا ہے۔جس سے اس طر ف اشارہ کیا ہے کہ تمہاراسایہ محدود ہوگا اوروہ بھی گھٹ جائے گااورمحمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جوبائیں طرف کے ملک میں چلاجائے گا اس کے کئی سائے ہوں گے یعنی وہ مختلف جہات سے ترقی کرے گا۔وَ لِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ اورجو (شے بھی) آسمانوں میں ہے اور(نیز)زمین پر جو بھی جاندار (موجود )ہے اور(تمام )فرشتے بھی الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ هُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ۠۰۰۵۰ اللہ(تعالیٰ)کے حضورمیں ہی جھکے رہتے ہیں اوروہ بڑائی نہیں کرتے۔حلّ لُغَات۔دَآبَّۃدَبَّ(دَبًّا)کے معنے ہیں۔مَشٰی عَلٰی ھِیْنَتِہِ کَمَشْیِ الطِّفْلِ وَالنَّمْلَۃ وَالضَّعِیْفِ۔آہستہ آہستہ چلا جس طرح بچہ یا ضعیف یا چیونٹی چلتی ہے۔اوردَابَّۃٌ دابٌّ کامؤنث ہے دَابَّۃٌ کے معنے ہیں مَادَبَّ مِنَ الْحَیَوانِ۔ہروہ حیوان جو زمین پر ضرب لگاکر چلتا ہے۔وغَلَبَ عَلٰی مَایُرْکَبُ وَیُحْمَلُ عَلَیْہِ الْاَحْمَالُ۔دَابّۃ کااستعمال زیاد ہ تر اس حیوان کے لئے ہوتاہے جس پر سواری کی جاتی ہے یااس پر بوجھ لاداجاتا ہے۔ویَقَعُ عَلَی الْمُذَکَّرِ وَاَلْھَاءُ فِیْھَا لِلْوَحْدَۃِ کَمَا فِی الْحَمَامَۃِ دَابّۃ کالفظ مذکر کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اورۃ وحدت کی سمجھی جائے گی۔یعنی دابّۃ کے معنے ہوں گے ایک حیوان(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے جوآسمانوں میں ہیں یعنی فرشتے وہ بھی خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتے ہیںاورجو کوئی زمین میں بستے ہیں وہ بھی اس کے حکم کے ماتحت ہیں۔پس جب خداکے قبضے میں سامان بھی ہیں اورسامانوں کے مدبّر ملائکہ بھی۔توجب دونوں کو اس کی ترقی کے لئے لگادیاجائے گاتوکیوں نہ محمدؐرسول اللہ کاسایہ بڑھے گا۔وَھُمْ لَایَسْتَکْبِرُوْنَ کا مطلب وَھُمْ لَایَسْتَکْبِرُوْنَ میں بتایاہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی