تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 98

یمین کے لفظ کے مفرد رکھے جانے اور شمائل کے جمع رکھے جانے کی وجہ میں نے جو معنے کئے ہیں ان کے مطابق سُجَّدًا لِّلّٰهِ اورهُمْ دٰخِرُوْنَ کو اَوَلَمْ یَرَوْا کی ضمیر کاحال بنایاہے۔بعض لوگوں نے ان کو مَا کاحال بنایا ہے (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا)۔مگرچونکہ یہاں ذوی العقول کاصیغہ اورضمیر استعمال کے گئے ہیں۔اس لئے میرے نزدیک وہی معنے زیادہ درست ہیں جو میں نے کئے ہیں۔ایک اوربات اس آیت میں قابل حل ہے اوروہ یہ کہ یمین کالفظ مفرد ہے اورشمائل کاجمع ہے۔ایساکیوں کیاگیا ہے۔حالانکہ چاہیے تھا کہ یادونوں کوجمع رکھاجاتا یادونوں کو مفرد۔بعض نے اس کایہ جواب دیاہے کہ یہ عرب کامحاورہ ہے اورقرآن میں بھی استعمال ہواہے کہ مقابل کی چیزوں کا جب ذکر کریں تو ایک جمع اور دوسرے کو مفرد لاتے ہیں۔جیسے جَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّوْر کہ ظلمات جمع استعمال ہواہے اورنورمفرد۔یہ فرق اس لئے کیا جاتا ہے کہ ایک لفظ کو مفرد بول کر افراد جماعت کی طرف اشار ہ کرتے ہیں اور دوسرے لفظ کو جمع استعمال کرکے جماعت کی طرف اشار ہ کرتے ہیں۔بعض دوسرے علماء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یمین کالفظ جمع کے معنوں میں بھی بولاجاتاہے۔(فتح البیان زیر آیت ھذا) اس آیت کایہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ پہلے عذاب کا ذکر کیاتھا اب اس کی دلیل بیان فرمائی ہے کہ ان کی سمجھ میں اتنا بھی نہیں آتاکہ اسباب کبھی پیداکرنے والے کے خلا ف ہوسکتے ہیں۔کیایہ دیکھتے نہیں ہیں کہ سورج کے سایہ میں تغیر ہوتارہتا ہے جس کی پیٹھ پر وہ ہوتاہے اس کاسایہ بڑھ جاتا ہے۔پھر کیا خدا کو اتنی بھی طاقت نہیں جتنی تم سورج میں سمجھتے ہو۔جب اللہ تعالیٰ محمد ؐرسول اللہ کی پیٹھ پرہوجائے گاکیااس کاسایہ نہ بڑھے گا اورترقی نہ ہوگی۔اسی طرح جن کی پشت پر سے وہ ہٹ جائے گا کیا ان کے سائے سمٹ نہ جائیں گے ؟ یمین اور شمال کے الفاظ کی تفسیر میں مفسرین کو مشکل اس آیت میں جو یمین و شمال کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کی تفسیر کرنے میں مفسروں نے بڑی مشکل محسوس کی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ سورج کے ادھر اُدھر ہونے سے سایہ کی لمبائی چھوٹائی تومشرق اورمغرب میں ہوتی ہے۔مگر یہاں خدا تعالیٰ یمین وشمال بیان فرماتا ہے حالانکہ دائیں بائیں کاتعلق سایوں سے کچھ نہیں ہوتا۔بعض نے اس کی توجیہ یہ کی ہے کہ یمین و شمال سے مراد مشرق و مغرب ہے کیونکہ اگر شمال کی طرف منہ کیا جائے تو مشرق و مغرب دائیں بائیں آجاتے ہیں (فتح البیان زیر آیت ھذا) مگریہ عام دنیا کے خلاف ہے۔دنیا کاقانون یہ ہے کہ مشرق کی طرف منہ کرکے سمتوں کی تعیین کر تے ہیں پس یہ توجیہ درست نہیں۔یمین اور شمال کے الفاظ سے ہجرت مدینہ کی طرف اشارہ اصل بات یہ ہے کہ اس مثال سے اصل مقصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورمکہ والوں کے اثرات کامقابلہ کرنااوریہ بتانا تھا کہ ان دونوں میں سے کس کے