تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 91
نہایت لطیف اور جدید مضمون پر روشنی ڈالی ہے جس کا ذکر اجمالاً اوپر آچکا ہے۔خلاصہ یہ کہ نبیوں کو سزا جزاء کا اس لئے اختیار نہیں دیا کہ وہ عالم الغیب نہیں۔اور نہیں جان سکتے تھے کہ کس وقت کون سا حکم جاری ہونا چاہیے۔آیا سزا کا یا عفو کا یا تاخیر سزا کا؟ اگلی آیت اسی مضمون کی تصدیق کرتی ہے۔يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ وَ يُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ۰۰۴۰ جس چیز کو اللہ( تعالیٰ) چاہتا ہے مٹاتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) قائم کرتا ہے اور اسی کے پاس( تمام) احکام کی اصل (اور جڑ) ہے۔حلّ لُغَات۔یَمْحُوْ۔مَـحَا سے مضارع کا صیغہ ہے اور مَـحَا الشَّیْءَ کے معنے ہیں زَالَ وَذَھَبَ اَثَرُہٗ۔کوئی چیز مٹ گئی اور اس کا نشان جاتا رہا۔فُلَانٌ الشَّیْءَ۔اَزَالَہٗ وَاَذْھَبَ اَثَرَہٗ۔کسی چیز کو مٹایا اور اس کا اثر دور کیا۔یعنی مَـحَا کا لفظ لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے۔(اقرب) یُثْبِتُ۔اَثْبَتَ ماضی سے مضارع کا صیغہ ہے اور أَثْبَتَ کے معنے ہیں عَرَفَہُ حَقَّ الْمَعْرِفَۃِ کسی بات کو خوب واضح کیا۔حَبَسَہٗ وَجَعَلَہٗ ثَابِتًا فِی مَکَانِہٖ لَایُفَارِقُہٗ۔کسی چیز کو اس کی جگہ پر ایسا مضبوط کیا کہ وہ اپنی جگہ سے علیحدہ نہ ہوسکے۔الحقَّ أَکَّدَہٗ۔حق و پختہ کیا۔اِسْمَہُ فِی الدِّیْوَانِ۔کَتَبَہٗ۔نام رجسٹر میں لکھا۔(اقرب) پس یَمْحُواللہُ مَایَشَآءُ وَیُثْبِتُ کے معنے ہوئے کہ جسے چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جسے چاہتا ہے قائم رکھتا ہے۔یعنی اگر چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اگر چاہتا ہے عذاب ٹال دیتا ہے۔أَلْاُمُّ کے معنے ہیں اَلْوَالِدَۃُ۔ماں۔أُمُّ الشَّیْءِ: اَصْلُہٗ۔کسی چیز کا اصل۔أُمُّ الطَّرِیْقِ۔مُعْظَمُہٗ۔راستے کافراخ حصہ۔(اقرب) اُمُّ الْکِتَابِ کے معنے ہوئے کتاب کی اصل۔وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ سے یہ مراد ہے (۱)کہ احکام کی حکمت خدا کو معلوم ہے۔(۲)تمام احکام شریعت صفات الٰہیہ پر مبنی ہیں۔پس شریعت کی جڑ گویا خدا تعالیٰ کے پاس ہے کیونکہ شریعت کے احکام اسی کی صفات کی شاخیں ہیں۔تفسیر۔یہ کبھی نہیں ہوتا کہ عذاب کا وقت نہ آیا ہو مگر اللہ تعالیٰ پھر بھی عذاب دے دے۔ہاں یہ ہو جاتا ہے کہ عذاب کا وقت تو آجائے مگر اس کی کسی حکمت کے ماتحت وہ عذاب ٹل جائے۔عذاب کے متعلق دو قانون عذاب کے متعلق دو قانون بیان فرمائے ہیں۔ایکيَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ