تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 85

اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَيْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَيْهِ مَاٰبِ۰۰۳۷ یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور( کسی کو) اس کا شریک نہ ٹھہراؤں میں اسی کی طرف (تم کو) بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میں( بھی) رجوع کرتاہوں۔حلّ لُغَات۔اَلْاَحْزَابُ۔اَلْحِزْبُ کی جمع ہے۔اور اَلْحِزْبُ کے معنے ہیں۔اَلطَّائِفَۃُ۔گروہ۔جَمَاعَۃُ الناسِ۔لوگوں کی جماعت۔جُنْدُ الرَّجُلِ وَاَصْحَابُہُ الَّذِیْنَ عَلَی رَأْیِہِ۔ایسے دوست اور ساتھی جو ہم خیال اور ہم رائے ہوں۔اَلنَّصِیْبُ۔حصہ۔کُلُّ قَوْمٍ تَشَاکَلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاَعْمَالُھُمْ فَھُمْ اَحْزَابٌ وَاِنْ لَمْ یَلْقَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔تمام وہ لوگ جن کے اعمال اور دل آپس میں مشابہ ہوں۔اگرچہ وہ آپس میں ملے نہ ہوں۔احزاب کہلاتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔مکی زندگی میں بعض اہل کتاب ایمان لے آئے تھے اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مکی زندگی کے دوران میں بھی بعض اہل کتاب ایمان لے آئے تھے۔وَالَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ میں جن لوگوں کی خوشی کا ذکر کیا ہے میرے نزدیک وہ نجاشی اور اس کے ساتھی تھے۔جو ہجرت حبشہ کے وقت سے ہی ایمان لاچکے تھے۔حضرت جعفرؓ نے جب ان کو قرآن مجید سنایا تو نجاشی نے کہا کہ میرا بھی یہی ایمان ہے۔مگر چونکہ ابھی ان کا ایمان ظاہر نہ ہوا تھا وہ صرف مومنوں کی ترقیات کو دیکھ کر ہی خوش ہوتے تھے۔اس لئے یُؤْمِنُوْنَ نہیں فرمایا بلکہ یفرحون فرمایا ہے۔اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ سے مراد مسلمان بھی ہو سکتے ہیں اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ سے مسلمان بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ وہ اسلام کی ترقی کی بشارتوں اور اپنے نیک انجام کی خوشخبریوں کو پاکر خوش ہوتے ہیں۔مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ۔احزاب سے مراد وہ تمام قومیں ہیں جو نبی کی مخاطب ہوتی ہیں۔مگر ایمان نہیں لاتیں۔اس میں یہودی، عیسائی، مشرک اور دوسری تمام اقوام مراد ہیں۔يُنْكِرُ کے دو معنی يُنْكِرُ کے دو معنے ہیں۔ایک انکار کرتے ہیں۔دوسرا یہ کہ ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔یا عجیب سمجھتے ہیں۔بَعْضَهٗ اس لئے فرمایا کہ جو حصے ان کے مطابق تھے ان سے وہ خوش ہوتے تھے۔صرف اپنے مذہب یا خیالات کے مخالف حصوں پر ہی ان کو اعتراض تھا۔