تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 86
قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ سے یہ بتایا کہ ہر نبی کی تعلیم کا مرکزی نقطہ توحید ہوتا ہے۔اسی نقطہ کے گرد میری تعلیم چکر لگارہی ہے۔پھر میں اس کو کیونکر چھوڑ سکتا ہوں۔دوسرے يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ سے جوا س طرف اشارہ تھا کہ کفار قرآن کریم کے بعض حصہ کو بدلوانا چاہتے تھے اس کا بھی جواب دیا کہ میں تو تابع ہوں۔جو حکم ہوتا ہے کہتا ہوں۔خدا کے کلام کے بدلنے کا مجھے کہاں حق ہوسکتا ہے۔اگر میں اس کو بدلوں تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ میں خدائی کا دعویدار ہوں۔پس یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا کیونکہ مجھے تو حکم ہی یہی ہے کہ میں ایک خدا کی عبادت کروں۔اِلَيْهِ اَدْعُوْا کا مطلب۔اِلَيْهِ اَدْعُوْا سے بتایا کہ میرا تو شروع سے دعویٰ ہے کہ میں اپنی ذات میں کچھ نہیں۔صرف خدا تعالیٰ کی طرف بلانے والا ہوں۔پھر میں تمہاری ناپسندیدگی پر اس قرآن کریم میں کیونکر تبدیلی کرسکتا ہوں۔اِلَيْهِ مَاٰبِ میں بتایا کہ میرا سارا معاملہ خدا کے ساتھ پیش آنا ہے تو میں اس کی نافرمانی کیسے کرسکتا ہوں۔تم مانو نہ مانو۔مجھے اس سے کیا غرض۔مانو گے تو خود فائدہ اٹھاؤ گے نہ مانو گے تو میرا کیا نقصان ہے؟ پس میں تمہاری خوشی کے لئے خدا تعالیٰ کے کلام میں تبدیلی کس طرح کرسکتا ہوں۔وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا١ؕ وَ لَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ اور اسی طرح ہم نے اسے مفصل حکم کی صورت میں اتارا ہے اور اگر( اے مخاطب) تو نے اس علم کے بعد جو تجھے بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا وَاقٍؒ۰۰۳۸ حاصل ہو چکا ہے ان( کفار)کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلہ میں نہ( تو) تیرا کوئی دوست ہو گا اور نہ کوئی بچانے والا(ہوگا)۔حلّ لُغَات۔عَرَبِیًّا۔اَعْرَبَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں اَبَانَہٗ وَاَفْصَحَہُ۔کسی چیز کو خوب بین اور واضح کر دیا۔عَنْ حَاجَتِہٖ اَبَانَ عَنْھَا۔حاجت کو کھول کر بیان کیا۔کَلَامَہٗ۔حَسَّنَہٗ وَاَفْصَحَ وَلَمْ یَلْحَنْ فِی الْاِعْرَابِ بات میں حسن پیدا کیا اور اسے خوب واضح کیا۔ا ور تلفظ میں بھی کوئی غلطی نہ کی۔بِحُجَّتِہٖ۔اَفْصَحَ بِھَا۔اپنی بات کھول کر مدلل طور پر بیان کی۔اور مفردات راغب میں ہے الإِعْرَابُ: اَلْبَیَانُ کہ اعراب کے معنے بات کو کھولنے اور خوب واضح کرنے کے ہیں۔پس حُکْمًا عَرَبِیًّا کے معنے ہوئے مفصل حکم۔عَرَبِیًّا کی مزید تشریح کے لئے دیکھو سورۃ یوسف آیت نمبر ۳۔