تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 84
پس اس سے اشارہ کیا گیا ہے کہ مومن کے اعمال بہت وسیع ہوتے ہیں۔وہ کنوئیں کے مینڈک کی طرح محدود نگاہ نہیں رکھتا۔پھر جمع کا لفظ انہار بول کر یہ بھی بتا دیا کہ نھر کے لفظ سے جن فوائد کی طرف اشارہ ہے وہ کئی اقسام کے ہوں گے۔نھر کا لفظ روحانی عالم میں عمل کی جگہ پر استعمال ہوتا ہے نَھر کا لفظ روحانی عالم میں عمل کی جگہ پر استعمال ہوتا ہے۔پس بتایا ہے کہ جس طرح مومن کے عمل مختلف اور کئی اقسام کے ہوتے ہیں ویسے ہی روحانی عالم میں ان کا تمثل بھی کئی نہروں کی صورت میں ظاہر ہوگا۔اور ہر قسم کے عمل کے مقابل پر ایک نہر جاری ہوگی اور ہر وقت مومن کو توجہ دلاتی رہے گی کہ یہ تمہارا فلاں عمل کام دے رہا ہے۔اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّ ظِلُّهَا۔ظِلُّہَا میں یہ بتایا ہے کہ وہاں خزاں کبھی نہ آئے گی پتے ہمیشہ رہیں گے۔یعنی جنت کی راحتوں اور نعمتوں میں وقفہ نہ ہوگا بلکہ ہمیشہ ہی رہیں گی۔اکل سےباطن کو راحت ہوتی ہے اور ظِلّ سے ظاہر کو پھراُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّ ظِلُّهَا میں یہ بھی اشارہ ہے کہ ظاہری اور باطنی نعمتیں قائم رہیں گی۔اکل سے باطن کو راحت ہوتی ہے اور ظل سے ظاہر کو۔وَعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ۔انہوں نے اپنی روحانی ترقیات کو مدنظر نہ رکھا بلکہ دوسروں کے پیچھے چل پڑے اور کہہ دیا کہ مَاوَجَدْنَا عَلَیْہِ اَبَاءَ نَا پر ہم قائم رہیں گے گویا ان کی زندگی اپنے لئے نہ رہی دوسروں کے لئے ہو گئی اس لئے فرمایا ہم بھی تمہیں آگ میں ڈالیں گے جو دوسروں کو فائدہ دیتی ہے اور خود جلتی ہے۔وَ الَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ اور جن( لوگوں) کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس (کلام الٰہی) سے جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے خوش ہوتےہیں اور ان مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ (مختلف)گروہوں میں سے (بعض) ایسے( بھی) ہیں جو اس کے بعض (حصہ) کا انکار کرتے ہیں تم کہو مجھے (تو)