تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 83

الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا جس کا پرہیزگاروں کو وعدہ دیا گیا ہے۔(یہ ہے کہ) اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اس کاپھل دَآىِٕمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى (بھی) ہمیشہ رہنے والا ہوگا اور اس کا سایہ (بھی)۔یہ ان( لوگوں) کا انجام ہوگا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا (ہوگا) الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ۰۰۳۶ اور انکار کرنے والوں کا انجام (دوزخ کی )آگ ہے۔حلّ لُغَات۔اَشَقُّ۔شَقَّ سے ہے اور شَقَّ کے معنے ہیں صَدَعَہٗ۔اس کو پھاڑا۔فَرَّقَہ ٹکڑے ٹکڑے کیا۔عَلَیْہِ الْاَمْرَ شَقًّا۔صَعُبَ۔معاملہ مشکل ہو گیا۔عَلٰی فُلَانٍ اَوْقَعَہٗ فِی الْمَشَقَّۃِ کسی کو مشقت میں ڈال دیا۔(اقرب) اَشَقُّ کے معنے ہوئے بہت سخت۔اَلْمَثَلُ۔اَلشِّبْہُ۔مشابہ۔اَلنَّظِیْرُ۔نظیر۔اَلصِّفَۃُ۔بیان۔اَلْحُجَّۃُ۔دلیل۔یُقَالُ اَقَامَ لَہٗ مَثَلًا أَیْ حُـجّۃً اور اَقَامَ لَہٗ مَثَلًا میں مثلا دلیل کے معنی میں استعمال ہو اہے۔اَلْحَدِیْثُ۔عام بات۔اَلْقَوْلُ السَّائِرُ۔ضرب المثل۔اَلْاٰیَۃُ۔نشان۔جَنَّۃٌ کے معنوں کے لئے دیکھو حل لغات سورۃ ہٰذاآیت نمبر۲۴جلد ھٰذا۔تفسیر۔جیسا کہ حل لغات میں بیان ہوچکا ہے جنت اس زمین کو نہیں کہتے جس میں درخت ہوں بلکہ اصل میں سایہ کرنے والی چیز کو کہتے ہیں۔پس تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ سے مراد یہ ہوئی کہ باغوں کے اندر درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔گویا اس سے ایک تو پانی کے قرب کی طرف اشارہ کیا دوسرے اس طرف اشارہ کیا کہ وہ خود نہروں کے مالک ہوں گے۔نھر سے وسعت عمل پر دلالت ہوتی ہے نھر۔سہولت سے چلنے والے پانی کو کہتے ہیں۔پس نھر سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہا ںانہیں بے روک ٹوک ترقیات حاصل ہوں گی۔نیز نھر سے وسعتِ عمل پر بھی دلالت ہوتی ہے۔کیونکہ دس بیس گھماؤ ںزمین کے لئے نہر نہیں جاری کی جاتی بلکہ وسیع رقبوں کے لئے جاری کی جاتی ہے۔