تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 79
اس کی گرفت سے بھاگ نہیں سکتا۔پس اسے سزا میں جلدی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ سزا میں جلدی تو وہ کرتا ہے جس میں طاقت نہیں ہوتی اور جو اپنے مخالف کو پکڑ لینے پر ڈرتا ہے کہ میں نے فوراً سزا نہ دی تو شاید ہاتھ سے نکل جائے اور پھر میں اس پر قدرت نہ پاؤں۔جب اللہ تعالیٰ ہر وقت قادر ہے اور پوری طرح قادر ہے تو وہ کمزوروں کی طرح جلدی کیوں کرے؟ پس ان کو سزا کی تاخیر پر ہنسنے یا تعجب کرنے کی ضرورت نہیں۔انہیں تو اس امر کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ آیا یہ خدا تعالیٰ کے مجرم ہیں یا نہیں؟ اگر خدا تعالیٰ کے مجرم ہیں تو پھر بے فکری اور خوشی کی کوئی وجہ نہیں۔وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَسے بتایا کہ اگر یہ اپنے عقائد اور اعمال پر غور کریں تو انہیں معلوم ہو جائے گاکہ یہ لوگ اس ذات کے مجرم ہیں جو سب کام خود کررہی ہے اور کسی کی امداد کی محتاج نہیں۔لیکن یہ اس کے شریک مقرر کررہے ہیں۔پس جب یہ اپنی ذات میں سزا کے مستحق ہوچکے ہیں تو یہ خیال ہی کس طرح کرسکتے ہیںکہ انہیں سزا نہیں ملے گی؟ قُلْ سَمُّوْهُمْ۔قرآن مجید کا قاعدہ ہے کہ جب کسی اہم مسئلہ کا ذکر ضمنی طور پر بھی ہو تو وہ اس کی تفاصیل پر روشنی ڈال دیتا ہے۔اس جگہ پر جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ دراصل اَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ کے مضمون کی تشریح کے طور پر لایا گیا تھا لیکن چونکہ شرک کا ذکر آگیا اس لئے اس عقیدہ کی بے ہودگی ثابت کرنی ضروری سمجھی۔چنانچہ شرک کے رد میں فرمایاقُلْ سَمُّوْهُمْ اگر شرکاء ہیں تو ذرا ان کے کام تو بتاؤ۔سَمُّوْھُمْ سے یہ مراد نہیں کہ نام بتاؤ کیونکہ نام تو بتوں کے انہوں نے رکھے ہی ہوئے تھے۔خود قرآن کریم نے بھی کئی نام گنائے ہیں۔پس مراد اسماء ذات نہیں بلکہ صفاتی نام ہیں۔ایک اور جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ (النجم :۲۴) یہ بت جن کو تم معبود قرار دیتے ہو نام ہی نام ہیں اور ہے کیا ؟یعنی ان میں کوئی صفات تو ہیں نہیں۔آیت زیرتفسیر میں بھی یہی مراد ہے کہ ان شرکاء کے ذرا کام تو بتاؤ۔شرک کے خلاف ایک زبردست دلیل یہ ایسی زبردست دلیل ہے جس کا کوئی مشرک جواب نہیں دے سکتا۔کیونکہ اگر وہ یہ کہے کہ مثلاً اس بت کا کام بیٹا دینا ہے تو اس میں سب صفات الٰہی ماننی پڑیںگی۔کیونکہ بیٹا دینے کے لئے ایک طرف تو رحم کی اصلاح کی ضرورت ہوگی اور دوسری طرف اگر مادہ تولید میں نقص ہے تو مرد کی اس مرض کو دور کرنا ہوگا۔اور اس کے لئے غذاؤں اور دواؤں اور ان کے اثرات پر تصرف ضروری ہے۔اور جب ایک بت کو یہ بات حاصل ہوگی تو پھر ماننا پڑے گا کہ غذاؤں پر بھی اسے تصرف حاصل ہے اور انسانی مشین کاچلانے والا دواؤں کے اثرات کو قبضہ میں رکھنے والا بھی وہی بت ہے نہ کہ خدا۔اور دواؤں کا اثر اجرام فلکیہ کے اثر کے تابع ہے۔اس لئے اس کا تصرف اجرام فلکیہ پر بھی تسلیم کرنا ہوگا۔ایسا ہی پھر اس کے لئے یہ بھی ضروری ہوگا کہ اسے علم غیب ہو۔