تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 78
الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ نام (تو) بتاؤ یا (کیا) تم (لوگ) اس (یعنی خدا تعالیٰ) کو کوئی ایسی بات بتاؤ گے جو زمین پر (موجود) تو ہے لیکن وہ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ١ؕ وَ مَنْ يُّضْلِلِ (اسے) نہیں جانتا یا کوئی اور کھلی بات (کہو گے ؟مگر) نہیں(تم کوئی ایسی بات نہیں بتا سکتے) بلکہ جن لوگوں نے انکار اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ۰۰۳۴ کیا ہے ان کو ان کی (اپنی ہی) فریب کاری خوبصورت (شکل میں )دکھائی گئی ہے۔اور انہیں( درست) راستہ سے ہٹا دیا گیا ہے اور جسے اللہ ہلاک کرے پھر اسے راہ دکھانے والا کوئی نہیں( مل سکتا)۔حلّ لُغَات۔قَائِمٌ قَامَ سے اسم فاعل ہے۔اور قَامَ عَلَیْہِ کے معنےہیں رَاقَبَہٗ اس پر نگہبان رہا۔عَلَی غَرِیْمِہِ۔طَالَبَہٗ۔(اقرب) اپنے قرضدار سے قرض کا مطالبہ کیا۔اَفَمَنْ ھُوَقَائِمٌ عَلَی کُلِّ نَفْسٍ اَیْ حَافِظٌ لَّہَا (مفردات) یعنی اَفَمَنْ ھُوَ قَائِمٌ میں قَائِمٌ کے معنے محافظ و نگران کے ہیں۔اَفَمَنْ ھُوَ قَائِمٌ کے آگے یہ جملہ محذوف ہے۔کَمَنْ ھُوَ لَیْسَ بِقَائِمٍ۔اور معنے یہ ہوں گے کہ کیا وہ ذات جونگہبان ہے اس جیسی ہوسکتی ہے جو نگہبان نہیں۔تُنَبِّئُوْنَ۔نَبَأَ سے ہے اور نَبَّأَہُ الْخَبَرَ وَبِالْخَبَرِ کے معنے ہیں خَبَّرَہٗ۔اس کو خبر دی۔یُقَالُ نَبَّأْتُ زَیْدًا عَمْرًوا مُنْطَلِقًا۔أَیْ اَعْلَمْتُہٗ میں نے زید کو بتایا کہ عمرو جارہا ہے (اقرب) پس اَمْ تُنَبِّئُوْنَہٗ کے معنے ہوئے کیا تم اسے بتاؤ گے۔تفسیر۔اَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌکا جواب محذوف ہے اس آیت میںاَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ کے جواب کا جملہ یعنی کَمَنْ ھُوَ لَیْسَ بِقَائِمٍ محذوف ہے اور یہ عربی زبان کا عام قاعدہ ہے کہ مقابل کا فقرہ لفظاً چھوڑ دیا جاتا ہے اور معناً اسے مدنظر رکھ لیا جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ وہ ذات جو انسانی اعمال میں سے چھوٹے سے چھوٹے عمل کو ضائع نہیں جانے دیتی اور سب کے نتائج پیدا کرتی ہے اور جس کے ہاتھ سے کوئی بچ نہیں سکتا اس جیسی ہوسکتی ہے جس میں یہ طاقت نہیں؟ قَائِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ کے معنے ہیں کہ نگران کے طور پر سر پر کھڑا ہے۔کوئی اس سے دور نہیں اور