تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 77

گمراہی میں مہلت دی۔الْبَعیْرَ وَسَّعَ لَہٗ فِی قَیْدِہِ اونٹ کی رسی کو لمبا کیا۔وَعِبَارَۃُ الْأَسَاسِ’’ اَمْلَیْتُ الْقَیْدَ لِلْبَعِیْرِ! اَرْخَیْتُہُ وَاَوْسَعْتُہُ‘‘ اور اساس میں اَمْلَیْتُ الْقَیْدَ لِلْبَعِیْرِ کے معنے یوں کئے گئے ہیں کہ میں نے اونٹ کے باندھنے کی رسی کو لمبا اور ڈھیلا کر دیا۔اللہُ الظَّالِمَ۔اَمْھَلَہٗ اللہ نے ظالم کو مہلت دی۔(اقرب) پس اَمْلَیْتُ کے معنے ہوں گے میں نے مہلت دی۔ڈھیل دی۔اَخَذَہٗ اللہُ اَھْلَکَہُ۔اللہ نے اسے ہلاک کیا۔فُلَانًا بِذَنْبِہِ۔عَاقَبَہٗ عَلَیْہِ۔کسی کے گناہ پر اسے سزا دی۔(اقرب) اور اَخَذْتُھُمْ کے معنے ہوں گے (۱) میں نے ان کو ہلاک کر دیا۔(۲) میں نے ان کو گناہوں پر سزا دی۔تفسیر۔منکرین کو ڈھیل دی جانی ضروری ہوتی ہے چونکہ کفار باربار اعتراض کرتے تھے کہ عذاب فوراً کیوں نہیں آتا؟ا ور ان کو جواب دیا گیا تھا کہ ہماری غرض ہدایت ہے۔اس لئے ڈھیل کادیا جانا ضروری ہے۔پہلے انبیاء کے منکرین کو ڈھیل دی گئی اب فرمایا کہ یہ ڈھیل کا دینا تیرے زمانہ کے منکروں کے ساتھ ہی مخصوص نہیں کہ اعتراض ہو بلکہ سب رسولوں کے زمانہ میں ایسا ہی ہوتا چلا آیا ہے کہ منکرین کو ڈھیل ملتی رہی۔اور فوراً نہیں پکڑے گئے۔پس اگر کسی مدعی کے منکروں کو ڈھیل کا ملنا ا سکے جھوٹ کی علامت ہے تو پھر پہلے نبیوں کو بھی نعوذباللہ جھوٹا ماننا پڑے گا۔مکہ والے کم از کم حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیلؑ کو تو ضرور سچا مانتے تھے اور ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کو بے انتہا تکالیف دی گئیں حتیٰ کہ آگ میں ڈالا گیا۔مگر خداوند تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو فوراً نہ پکڑا بلکہ لمبی ڈھیل کے بعد پکڑا۔آیت کے آخر میں اس امر کو بھی پیش کیا ہے کہ اصل میں دیکھنے والی بات یہ نہیں کہ ڈھیل کیوں مل رہی ہے۔بلکہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ منکرین جب پکڑے گئے تو ان کے ساتھ کیسا معاملہ ہوا کیا ان کا انجام نہایت عبرتناک نہیں ہوا؟ پھر ڈھیل پر کیا اعتراض ہے؟ ڈھیل پر اعتراض تو تب ہو جب اس کا نتیجہ انبیاء کے حق میں مضر ہو۔درمیانی ڈھیل تو بعثت انبیاء کی غرض یعنی خلق اللہ کی ہدایت کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔اَفَمَنْ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ توکیا وہ( خدائے برتر )جو ہر ایک شخص کا جو کچھ اس نے کمایا ہو اس کے مطابق نگران ہے (ان سے نہ پوچھے گا) اور شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّـُٔوْنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي انہوںنے (تو) اللہ کے کئی ایک شریک (بھی) بنائے( ہوئے) ہیں (ان سے) کہو تم ان( نئے خداؤں) کے