تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 3

یہ برسنے والا بادل جو آیا ہے اس کے ساتھ کڑک بھی چاہیے تھی۔سووہ بھی آگئی ہے۔ویری کا ایک غلط خیال رومن اردو قرآن کے مصنف ریورنڈ ویری صاحب لکھتے ہیں کہ اس سورۃ میں معجزات نہ دکھانے کی اس قدر معذرتیں آئی ہیں کہ اس کا نام بجائے رعد کے معذرتوں والی سورۃ ہونا چاہیے(A Comprehensive Commentary on the Quran by Wherry chapter xiii)۔میں کہتا ہوں کہ اس سورۃ میں اس قدر انذاری پیشگوئیاں ہیں کہ رعد اس کا طبعی نام ہے۔سورۃ رعد اور پہلی تین سورتوں کے ابتداء میں فرق ، کتاب کو بغیر صفت کے بیان کرنے کی وجہ سورہ یونس کے شروع میں کتاب کی صفت حکیم بیان فرمائی تھی۔سورہ ہود میں فُصِّلَتْ سورہ یوسف میں مُبِیْن اور اس جگہ بغیر کسی صفت کے کتاب کو بیان کیا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سورہ یونس میں انذار و تبشیر دونوں پہلوؤں کو یکجا لیا گیا تھا اور بتایا تھا کہ حکیم خدا اپنی حکمتوں کے ماتحت موقع کے مطابق سلوک کرتا ہے۔سورہ ہود میں سزا کے پہلو پر زور تھا۔اس لئے فُصِّلَتْ اس کی آیات کی صفت بیان ہوئی۔کیونکہ تفصیل پھاڑنے اور جدا کرنے کے معنوں پر مشتمل ہے۔سورہ یوسف میں ایک طرف غلبہ کے فوراً نہ حاصل ہونے کی حکمتوں کا بیان دوسری طرف عفو اور صلح پر زور تھا۔اس لئے مُبِیْنٌ کہا جو عذرومعذرت پر دلالت کرتا ہے۔اَلْکتَابُ کے معنی یا تو کامل کتاب کے ہیں یا پہلی سورتوں کی طرف اشارہ ہے سورہ رعد میں چونکہ ذرائع حصول مطالب پر بحث تھی اس لئے بغیر صفت کے رکھا جس کی وجہ سے اَلْکِتٰبُ کے معنے یا تو کامل کتاب کے ہو گئے یا پہلی تین سورتوں کی طرف اشارہ ہو گیا کہ وہ تین صفات جو پہلی تین سورتوں میں بتائی گئی تھیں وہ پورے طور پر اب اس سورۃ کے ذریعہ سے ظاہر کی جائیں گی۔