تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 64

الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ۰۰۲۶ دوری (مقدر) ہے اور( اسی طرح) ان کے لئے برا گھر( مقرر) ہے۔حلّ لُغَات۔اَللَّعْنَۃُ۔لَعَنَہٗ لَعْنًا۔طَرَدَہٗ وَاَبْعَدَہُ مِنَ الْخَیْرِ لَعَنَ کے معنے ہیں اس کو دھتکارا اور بھلائی سے دور کیا۔محروم کیا۔وَاَخْزَاہُ وَسَبَّہٗ۔اس کو ذلیل کیا ور اس کو گالی دی۔اَللَّعْنَۃُ اِسْمٌ مِّنَ اللَّعْنِ۔لَعْنَۃٌ لَعَنَ کا اسم ہے اور اس کے ایک معنی عذاب کے بھی ہیں۔(اقرب) تفسیر۔نَقَضَ اور عَھْدَاللہِ دونوں کو ملا کر دو باتوں کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔یعنی نیکیوں کو بھی چھوڑ دیتے ہیں اور بدیوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور جن سے تعلق جوڑنے کا خدا نے حکم دیا تھا ان سے قطع کرتے ہیں۔یعنی بجائے صلہ رحمی کے قطع رحمی کرتے ہیں۔کوئی نظام قومی کو توڑتا ہے کوئی انبیاء کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کی بجائے ان کی مخالفت کرتا ہے۔کوئی شفقت علی الناس کو چھوڑ دیتا ہے۔کوئی اللہ تعالیٰ کو چھوڑتا ہے۔یہ سب قطع کرنا ہے ان باتوں کو جن کے ملانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔وصل کے مقابل پر افساد کے لفظ کےرکھنے کی وجہ وَ يُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ۔وَصل کے مقابلہ میں اِفْسَاد رکھا ہے یعنی صرف یہی نہیں کہ جن سے وصل اور ملاپ کرنے کا خداوند تعالیٰ نے حکم دیا ہوا ہے ان سے وصل نہیں کرتے بلکہ بجائے وصل کے وہ ظلم کرنے لگتے ہیں اور قطع تعلق سے بڑھ کر مخالفت شروع کردیتے ہیں۔لعنت کے معنے دوری کے ہیں اُولٰٓىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ۔چونکہ وہ خدا سے قطع تعلق کرتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ سے دور کئے جائیں گے۔لعنت کے معنی دوری کے ہیں اور لعنت کا لفظ گالی کے طور پر استعمال نہیں ہوا بلکہ اس سے حقیقت بتائی گئی ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے خود قطع تعلق کریں انہیں قرب کس طرح نصیب ہوسکتا ہے؟