تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 63

جو شخص تھوڑے تھوڑے ابتلاؤں پر گھبرا جاتا ہے وہ جنت کا مستحق نہیں ہوگا اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو شخص تھوڑے تھوڑے ابتلاؤں پر گھبرا جاتا ہے اور حق پر قائم نہیں رہتا وہ جنت کا مستحق نہیں ہوگا۔جنت کا وہی شخص مستحق ہوسکتا ہے جو کسی ابتلاء پر گھبرائے نہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو کبھی قطع نہ کرے اور نیکیوں میں برابر لگا رہے۔السلام علیکم پر چکڑالویوں کے اعتراض کا جواب چکڑالوی لوگ کہا کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں تو سلام علیکم آتا ہے پھر مسلمان السلام علیکم کیوں کہتے ہیں۔السلام علیکم کہنے سے یہ مراد ہے کہ اللہ تمہیں خاص سلام سننے کا موقعہ دے اس کا جواب یہ ہے کہ جب ہم السلام علیکم کہتے ہیں تو ہماری مراد اس سے یہ نہیں ہوتی کہ تم پر سلامتی نازل ہو بلکہ یہ مراد ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ تم کو وہ سلام سننے کا موقع دے جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے۔جیسے وہ سلام جس کا ذکر اس آیت میں ہے اور یہ ظاہر ہے کہ خاص سلام کی طرف اشارہ کیا جائے گا تو عربی کے قاعدہ کے مطابق السلام علیکم ہی کہا جائے گا۔اس آیت کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی سلام کا ذکر ہے۔مثلاً سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ(الزمر:۷۴)۔سورہ زمر کے آخر میں ہے اور سورۃ یٰس میں ہے لَهُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا يَدَّعُوْنَ۔سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ(۵۸،۵۹)۔پس جب ہم السلام علیکم کہتے ہیں تو ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ اے بھائی! خدا تعالیٰ تم کو جنت میں داخل کرے اور خدا تعالیٰ کے فرشتے حسب وعدہ ہر دروازے سے داخل ہوکر خدا تعالیٰ کا سلام تم کو پہنچائیں۔جو اعلیٰ دعا اس طرح سے پہنچتی ہے وہ ہمارے منہ سے نکلے ہوئے سلام سے کہاں پہنچ سکتی ہے؟ پس سلام علیکم کی جگہ السلام علیکم ہی صحیح ہے۔وَ الَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَ اور جو اللہ کے (ساتھ کئے ہوئے) عہد کو اسے پختہ کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس( تعلق) کے قائم کرنے کا يَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ يُّوْصَلَ وَ يُفْسِدُوْنَ فِي اللہ (تعالیٰ) نے حکم دیا تھا اسے توڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ان کے لئے (اللہ کی جناب سے)