تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 60

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا۠ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآىِٕهِمْ وَ یعنی مستقل رہائش کے باغات جن میں وہ( خود بھی) داخل ہوں گے اور ان کے بڑوں اور اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّيّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ ان کی بیویوں اور ان کی نسلوں میں سے بھی جنہوں نے نیکی اختیار کی ہوگی اور فرشتے مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ۰۰۲۴ ہر ایک دروازہ سے ان کے پاس آئیں گے۔حلّ لُغَات۔جَنّٰتٌ۔جَنَّۃٌ کی جمع ہے اور اَلْجَنَّۃُ جَنَّ میں سے ہے۔وَاَصْلُ الْجَنِّ سَتْرُ الشَّیْءِ۔جَنَّ کے اصل معنے کسی چیز کو ڈھانپنے کے ہیں۔یُقَالُ جَنَّہُ اللَّیْلُ چنانچہ جَنَّہُ اللَّیْلُ کا محاورہ انہی معنوں میں مستعمل ہے کہ رات نے اس کو ڈھانپ لیا۔وَالْجَنَّۃُ کُلُّ بُسْتَانٍ ذِیْ شَجَرٍ یَسْتُرُ بِاَشْجَارِہِ الْاَرْضَ۔اور جنت ہر اُس باغ کو کہتے ہیں جس میں کثرت سے درخت ہوں اور وہ درختوں کے جھنڈ سے زمین کو ڈھانپ لے۔وَقَدْ تُسَمَّی الْاَشْجَارُ السَّاتِرَۃُ جَنَّۃً۔اور ڈھانپنے اور چھپانے والے یعنی گھنے درختوں کو بھی جَنَّۃٌ کہتے ہیں۔وَسُمِّیَتْ الْجَنَّۃُ اِمَّا تَشْبِیْہًا بِالْجَنَّۃِ فِی الْاَرْضِ وَاِنْ کَانَ بَیْنَہُمَا بَوْنٌ۔وَ اِمَّا لِسَتْرِہٖ نِعَمَہَا عَنَّا الْمُشَارَ اِلَیْہِ بِقَوْلِہٖ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَااُخْفِیَ لَہُمْ مِنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ۔اور جنت کو اس لئے جنت کے نام سے پکارا گیا ہے کہ یا تو وہ دنیاوی باغات کے مشابہ ہے اگرچہ ان میں اور اس میں بہت فرق ہے۔یا اس وجہ سے کہ اس کی نعمتیں ہم سے پوشیدہ ہیں جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ میں فرمایا ہے کہ جنت کی نعماء کا کسی کو علم نہیں۔(مفردات) عَدْنٍ۔عَدَنَ بِالْمَکَانِ عَدْ نًا۔اَقَامَ بِہٖ۔عَدَنَ کے معنے ہیں کسی جگہ میں ٹھہرا۔تَوَطَّنَہٗ۔اس کو وطن بنایا۔وَقِیْلَ مِنْہُ جَنَّاتُ عَدْنٍ اَیْ جَنَّاتُ اِقَامَۃٍ لِمَکَانِ الْخُلُوْدِ اور بعض محققین لغت نے کہا ہے وَجَنّٰتُ عَدْنٍ میں عدن اقامت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ رہ پڑنے کے باغات۔کیونکہ ان میں ہمیشہ رہا جائے گا۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ عُقْبَى الدَّارِ سے مراد وہ جنات ہیں کہ جو ہمیشہ رہنے والی ہیں یا یہ