تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 52

قوم پروری کرلو گے مگر آخر ایک نہ ایک دن حق قبول کرنے پر مجبور ہوجاؤگے۔اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ جو شخص جانتا ہے کہ جو (کلام) تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اتارا گیا ہے وہ بالکل حق ہے۔کیا وہ اس اَعْمٰى ١ؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ۰۰۲۰ شخص جیسا (ہو سکتا) ہے جو اندھا ہے۔عقل والے ہی نصیحت پکڑتے ہیں۔حلّ لُغَات۔یَتَذَکَّرُ۔تَذَکَّرَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور تَذَکَّرَ کے معنے ہیں ذَکَرَ الشَّیْءُ وَحَفَظَہٗ فِیْ ذِھْنِہٖ۔کسی چیز کو ذہن میں محفوظ کیا یعنی یاد کیا۔مَاکَانَ قَدْنَسِیَ نَطَقَ بِہٖ بھولی ہوئی بات کو بیان کیا۔اللہَ: مَـجَّدَہٗ وَسَبَّـحَہٗ۔اللہ کی بزرگی بیان کی اور اس کی تسبیح کی۔(اقرب) اَلْاَلْبَابُ اَلْاَلْبَابُ لُبٌّ کی جمع ہے اس کے معنی عقل کے ہیں۔مزید تشریح کے لئے دیکھیں یوسف آیت نمبر ۱۱۲۔پس اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ کے معنے ہوں گے کہ صرف عقل والے بات کو سمجھتے ہیں یا عقل والے بات کو یاد رکھتے ہیں یا عقل والے اگر غلطی کر جائیں تو پھر احکام الٰہی کو یاد کرکے سنبھل جاتے ہیں۔اَلْاَلْبَابُ۔اَللُّبُّ خَالِصُ کُلّ شَیْءٍ۔لبّ ہر چیز کے خالص حصہ کو کہتے ہیں۔وَالْعَقْلُ۔عقل۔اَوِالْخَالِصُ مِنَ الشَّوَائِبِ اَوْ مَازَکَی مِنَ الْعَقْلِ۔ایسی عقل جو تعصب ضد وغیرہ کی ملاوٹوں سے خالص ہو یا اعلیٰ پایہ کی ہو۔فَکُلُّ لُبٍّ عَقْلٌ وَلَا عَکْسَ پس جب لُبّ کا لفظ بولیں تو اس کے معنے عقل کے کرسکتے ہیں لیکن ہمیشہ عقل کے لفظ پر لُبّ کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔وَ مَعْنَاھَا الْقَلْبُ لُبّ کے ایک معنی دل کے بھی ہیں۔اس کی جمع اَلْبَابٌ۔أَلُبٌّ اور اَلْبُبٌ آتی ہے۔(اقرب) اُولُوالْاَلْبَابِ کے معنے یہ ہوں گے کہ ایسی عقل والے لوگ جو اسے ضد و تعصب وغیرہ سے علیحدہ رکھتے ہیں اور بات کو جلدی سمجھ جاتے ہیں۔تفسیر۔اس تعلیم کے ذریعہ سے ہر قسم کی ترقیات ملیں گی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ یہ تعلیم اس قسم کی ہے کہ اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی ترقیات انسانوں کو ملیں گی۔پس جو شخص اس کو سمجھ لیتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے۔