تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 48
الْمَفْرَجُ بَیْنَ الجَبَلَیْنِ وَادِیًا‘‘۔اور مفردات راغب میں ہے کہ وادی اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی بہتا ہو اور اسی وجہ سے پہاڑوں کی درمیانی فراخ جگہ کو وادی کہتے ہیں۔(اقرب) اَلسَّیْلَ۔اَلْمَاءُ الْکَثِیْرُ۔بہت پانی۔وَالْعَرَبُ تَقُوْلُ ’’سَالَ بِہِمُ السَّیْلُ وَجَاشَ بِنَا البَحْرُ‘‘ اَیْ وَقَعُوْا فِیْ اَمْرٍ شَدِیْدٍ وَنَحْنُ فِیْ اَشَدِّ مِنْہُ۔اور عرب سَالَ بِہِمُ السَّیْلُ وَجَاشَ بِنَا الْبَحْرُ کا محاورہ بولتے ہیں جس کے معنے ہیںکہ دوسرے لوگوں کو کثرت پانی نے بہایا۔اور ہم پر سمندر نے جوش مارا۔اور مطلب ان کا یہ ہوتا ہے کہ پہلے لوگ بھی مصیبت میں مبتلا ہوئے لیکن ہم اُن سے بڑھ کر مصائب میں مبتلا ہوئے۔اس محاورہ میں السَّیْلُ کا لفظ مصیبت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔(اقرب) الزَّبَدُ۔مَایَعْلُوالْمَآءَ وَغَیْرَہٗ مِنَ الرَّغْوَۃِ۔جھاگ۔اَلْخَبَثُ۔بری چیز۔وَقَوْلُ الْحَرِیْرِیِّ ثُمَّ اَقْبَلْنَا عَلَی الْحَدِیْثِ نَمْـخَضُ زُبَدَہٗ وَنُلْقِیْ زَبَدَہٗ کَنَی بِالزُّبَدِ وَھِیَ جَمْعُ زُبْدَۃٍ عَنْ خِیَارِ الْکَلَامِ وَبِالزَّبَدِ عَمَّا لَاخَیْرَ فِیْہِ۔اور حریری نے اپنے اس قول میں زُبد اور زَبَد کا استعمال کیا ہے۔زُبد سے مراد اعلیٰ درجہ کا کلام ہے اور زَبَد کے معنے ہیں وہ کلام جس میں کوئی خوبی نہ ہو۔(اقرب) رَابِیًا۔رَبَا یَرْبُوْ۔اَلمَالُ۔زَادَ وَ نَمَا۔مال زیادہ ہوا اور بڑھا۔فُلَانٌ الرَّابِیَۃَ۔عَلَاھَا۔ٹیلے پر چڑھا۔اَلْفَرَسُ رَبْوًا۔اِنْتَفَخَ مِنْ عَدْوٍ اَوْ فَزْعٍ وَاَخَذَہُ الرَّبْوَ۔گھوڑے کو دوڑ کی وجہ سے سانس چڑھ گیا۔فُلَانٌ السَّوِیْقَ۔صَبَّ عَلَیْہِ الْمَآءَ فَانْتَفَخَ۔ستوؤں کو پانی میں بھگویا تو وہ پھول گئے۔فِیْ حِـجْرِہِ۔رَبْوًا وَ رُبُوًّا۔نَشَأَ۔فلاں کی گود میں پلا۔وَکَلَّمْتُہٗ فَمَارَبا بِرَأْسِہٖ۔اَیْ لَمْ یَعْبَأْبِیْ۔میں نے اس سے بات کی لیکن اس نے توجہ نہ کی۔الرَّابِیَۃُ مَاارْتَفَعَ مِنَ الْاَرْضِ۔ٹیلہ اَخْذَۃً رَّابِیَۃً۔شَدِیْدَۃً۔سختی سے پکڑنا۔(اقرب) پس زَبَدًا رَّابِیًا کے معنے ہوں گے اوپر آنے والی جھاگ۔(۲)پھولنے والی جھاگ۔(۳)ناقابل توجہ جھاگ یعنی حقیر۔جُفَاءً۔مَانَفَاہُ السَّیْلُ اِذَا رَمٰی بِہٖ۔جس کو سیلاب پھینک دیتا ہے۔قَالَ ابْنُ السِّکِّیْتِ۔وَذَھَبَ الزّبَدُ جُفَاءً اَیْ مَدْفُوْعًا عَنْ مَائِہٖ۔اور ابن سکیت نے ذَھَبَ الزَّبَدُ جُفَاءً میں جُفَاءً کے معنے کئے ہیں پانی سے ہٹائی ہوئی۔دور کی ہوئی۔پھینکی ہوئی۔اَلْبَاطِلُ تَشْبِیْہًا لَہٗ بِزَبَدِ الْقِدْرِ الَّذِیْ لَایُنْتَفَعُ بِہٖ۔باطل بے حقیقت۔بے فائدہ۔چونکہ ہنڈیا کی جھاگ بھی بے فائدہ جاتی ہے اس لئے باطل کو اس پر قیاس کرلیا کیونکہ وہ بھی بے فائدہ ہے اس لئے جفاء کا لفظ اس کے لئے استعمال کرلیا۔(اقرب) تفسیر۔اس جگہ اس مضمون کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔کہ پانی جب آسمان سے اترتا