تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 47
قبضہ میں ہے اور اسی کی محتاج ہے۔پس سب معبودانِ باطلہ بھی اس کے ماتحت ہیں۔اور کوئی بھی ان میں سے خالق نہیں اور ان کی عبادت کرنا فضول ، عبث اور بے دلیل ہے۔اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ اس نے آسمان سے کچھ پانی اتارا پھر (اس سے) کئی وادیاں اپنی (اپنی) مقدار کے مطابق بہ نکلیں السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا١ؕ وَ مِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ اوراس سیلاب نےاوپر آجانی والی جھاگ کو اٹھا لیا اور جس( دھات) کو وہ کسی زیور یا کسی (اور) سامان کی طلب ابْتِغَآءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ میں آگ میں تپاتے ہیں اس میں( بھی) اس جیسا ایک جھاگ (ہوتا)ہے اسی طرح اللہ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ حق اور باطل (کے فرق) کو بیان کرتا ہے پھر جھاگ تو پھینکا جا کر تباہ ہو جاتا ہے اور اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ جو چیز لوگوں کو نفع دینے والی ہوتی ہے وہ زمین میں ٹھہری رہتی ہے۔يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ۰۰۱۸ اللہ (تعالیٰ) تمام باتوں کو اسی طرح( کھول کر) بیان کرتا ہے۔حلّ لُغَات۔اَوْدِیَۃٌ وَادٍ کی جمع ہے اور وَادِی وَدَی سے مشتق ہے۔وَدَی الشَّیْءُ وَدْیًا کے معنے ہیں سَالَ۔بہہ پڑی۔اور اَلْوَادِیْ اس سے اسم فاعل ہے یعنی بہنے والی۔نیز اَلْوَادِی کے معنے ہیں مُنْفَرَجٌ بَیْنَ جِبَالٍ اَوْ تِلَالٍ اَوْآکَامٍ یَکُوْنُ مَنْفَذًا لِلسَّیْلِ۔کہ وادی پہاڑوں یا ٹیلوں کی درمیانی جگہ کو کہتے ہیں۔جس میں سیلاب کا پانی بہتا ہے۔وَفِیْ مُفْرَدَاتِ الرَّاغِبِ ’’اَلْوَادِیْ اَلْمَوْضِعُ الَّذِیْ یَسِیْلُ فِیْہِ الْمَآءُ وَمِنہُ سُمِّیَ