تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 46

معبودوں کے متعلق ایسے دعاوی بھی پیش کرتے ہیں۔افسوس مسلمانوں نے بھی اس زمانہ میں ایسی بات کہنی شروع کردی ہے اور حضرت مسیح کو پرندوں کا خالق قرار دے دیا ہے اور بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اب پتہ نہیں لگ سکتا کہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے پرندے کون سے ہیں اور حضرت مسیح کے بنائے ہوئے کون سے؟ حضرت مسیح موعود ؑ کا ایک مولوی سے حضرت مسیح ؑ کے پرندے پیدا کرنے کے متعلق سوال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ایک مولوی سے پوچھا کہ تم جو دعویٰ کرتے ہو کہ حضرت مسیح ؑ ناصری پرندے پیدا کیا کرتے تھے آخر انہوں نے کیا چیز پیدا کی تھی۔تو اس نے جواب دیا کہ چمگادڑ۔جب میں نے اس سے پوچھا کہ مسیح کی چمگادڑیں کون سی ہیں اور خدا کی بنائی ہوئی چمگادڑیںکون سی ہیں تو ان مولوی صاحب نے فرمایا اب پتہ نہیں چلتا اور پنجابی میں کہا کہ ’’او ہن رل مل گیاں نے‘‘ یعنی اب تو وہ خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی چمگادڑوں سے مل جل گئی ہیں(تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۲۰۶)۔افسوس کہ جس بات کی جرأت مکہ کے مشرکوں کو نہ ہوئی وہ کام مسلمانوں نے کس دلیری سے کیا۔اور نہ سوچا کہ اس بے دلیل دعویٰ کو کون تسلیم کرے گا؟ واحد اور احد میں فرق اَلْوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو ظاہر کرنے کے لئے دو نام آتے ہیں۔ایک واحد۔دوسرا احد۔احد نام تنزیہی ہے اور اس کے معنے ہیں اکیلا۔اس کے ذکر پر دو یا تین کا خیال تک بھی ذہن میں نہیں آتا۔یہ فردیت پر دلالت کرتا ہے اور کسی دوسرے یا تیسرے وجود کا خیال ذہن میں نہیں آتا۔لیکن واحد کا لفظ جس کے معنے پہلے کے ہیں یہ نام ابتدائی نقط پر دلالت کرتا ہے کیونکہ وہ دوسرے تیسرے کے وجود کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس سے یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ منبع ہے ساری مخلوق کا۔باوجودیکہ کوئی مخلوق کمالات میں اس کی مشابہ نہیں۔اور اس کی ذات تمام دنیا سے مستغنی ہے پھر بھی ہر چیز اس کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔جس طرح دوسرے اور تیسرے کا وجود لازمی طور پر پہلے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ کی دلیل کے طورپر صفت واحد کو پیش کیا ہے یعنی اگر تم اس کوخالق نہ مانو گے تو وہ واحد نہیں رہتا۔پھر تو بعض اشیاء اس پر دلالت کرنے کی بجائے کسی اور منبع کی طرف اشارہ کریں گی۔پس اگر کوئی دوسرا خالق مانو گے تو اس کی وحدانیت سے انکار کرنا پڑے گا اور اگر اسے واحد نہ مانو گے تو اس امر کا اظہار کرنا پڑے گا کہ اس کے سوا کوئی اور بھی خالق ہے۔اَلْقَہَّارُ میں یہ بتایا ہے کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز پیدا ہوکر پھر پیدا کرنے والے کے قبضہ سے نکل جائے اور اس کے لئے قبضہ میں رکھنے کے لئے کسی اور مددگار کی ضرورت ہو مگر اس جگہ یہ بات بھی نہیں۔ہر چیز اللہ تعالیٰ کے