تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 42

اطاعت طوعاً ہے اور دوسرے حصہ کی کرھاً۔مقصد یہ کہ گو بظاہر انسان آزاد نظر آتا ہے لیکن غور سے دیکھنے پر اس کے ہر فعل میں ایک جبر بھی نظر آتا ہے جو کسی بالا ہستی کے دخل پر دلالت کرتا ہے۔دوسرے اس آیت میں تصرفات الٰہیہ کا طریق بتلایا ہے کہ بعض تصرفات اللہ تعالیٰ رسول کریم صلعم کی مدد کے لئے ایسے کرے گا کہ کفار اس میں اپنے آپ کو مجبور سمجھیں گے اور دل میں کڑھیں گے اور بعض تصرفات ایسے کرے گا کہ کفار خیال کریں گے کہ ہم ا ن کاموں میں اپنا فائدہ کررہے ہیں۔حالانکہ ان کا جو نتیجہ پیدا ہوگا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں پیدا ہوگا۔طوعاً کی مثال صلح حدیبیہ ہے کہ اس کی شرائط کفار نے زور سے منوائیں اور یہ سمجھ کر منوائیں کہ ان میں ہمارا فائدہ ہے مگر دراصل ان میں تھا مسلمانوں کا فائدہ۔جیسا کہ بعد میں ظاہر ہوا۔یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ سے اخراج کہ پہلے انہوں نے سمجھا اس طرح ہم نے مسلمانوں کو اپنے مرکز سے نکال دیا۔لیکن ا س سے اسلام کی آزادی اور ترقی کی بنیاد رکھی گئی۔کرہاً کی مثال فتح مکہ ہے کہ مجبوراً آنحضرت صلعم کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے۔دوسری مثال اس کی ایسے صحابہ سے حسن سلوک تھا جن کے خاندانوں اور قبائل سے وہ ڈرتے تھے۔طوعاً وکرہاً کا مطلب پھر طوعاً و کرہاً کا فرق نیک و بد جماعت کے لحاظ سے بھی ہوسکتا ہے۔یعنی مومن خدا کی اطاعت طوعاً کرتے ہیں اور کافر کرہاً۔ظل کے مختلف معانی وَ ظِلٰلُهُمْ جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے ظِلَالٌ۔ظِلُّ کی بھی جمع ہے اور ظُلَّۃٌ کی بھی۔ظِلّ کے ایک معنے سایہ کے ہیں۔سایہ چونکہ عدم نور کے معنی رکھتا ہے۔اس جگہ وہ مراد نہیں ہوسکتا۔کیونکہ غیرموجود چیز کے لئے سجدہ کا لفظ نہیں آسکتا۔ظِلّ کے دوسرے معنے کسی چیز کے وجود اور شخص کے بھی ہوتے ہیں۔(۱)تمام اشیاء کے وجود قانون الٰہی کے ماتحت ہیں ان معنوں کے رو سے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ دلی اور قلبی سجدہ کے علاوہ تمام ا شیاء کے وجود قانونِ الٰہی کے ماتحت ہیں۔حتیٰ کہ کافر کا جسم بھی خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت ہوتا ہے اور اس طرح گو اس کا ذہن اور ایمان خدا تعالیٰ کا منکر ہوتا ہے مگر اس کا جسم خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگا ہوا ہوتا ہے۔مجازاً ظل توابع کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کہتے ہیں۔سُلْطَانٌ ظِلُّ اللہِ بادشاہ اللہ کا سایہ ہے۔یعنی اس کے ماتحت۔(۲ ) تمام ذَوِی الاَرواح اور ان کے تابع وجود اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہیں پس اس کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ تمام ذی روح اور ان کے تابع وجود اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہیں۔ظُلَّۃٌ جو اس لفظ کا دوسرا مفرد ہے اس کے معنی سایہ کرنے والے کے ہیں۔جیسے سائبان وغیرہ۔یا مجازاً سردار