تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 43
اور حکمران۔اور معنے یہ ہوں گے کہ ان کے بڑے یا ان کو آرام پہنچانے والے وجود بھی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہیں۔(۳) تمام موجودات اور ان کے تابع اور حکمران اللہ کی فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہیں بہترین معنے یہ ہیں کہ دونو معنے اس جگہ مراد ہیں۔ظِلٌّ والے بھی اور ظُلَّۃٌ والے بھی اور معنے یہ ہیں کہ تمام موجودات اور ان کے تابع اور ان کے حکمران سب کے سب اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں لگے ہوئے ہیں۔پس ان لوگوں کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کہ اگر محمد رسول اللہ صلعم کی مخالفت انہوں نے ترک نہ کی تو جوان سے اوپر کے وجود اور طاقتیں ہیں وہ بھی ان کی مخالف ہو جائیں گی اور جو ان کے تابع ہیں وہ بھی ان کے مخالف ہو جائیں گے۔ان معنوں کی تصدیق اسی سورۃ کی ایک دوسری آیت سے بھی ہوتی ہے۔فرماتا ہےاَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا (الرعد:۴۲) یعنے کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم ان کی حکومت کو دونوں طرف سے کم کرتے چلے آتے ہیں۔یعنے بڑے خاندانوں میں سے بھی اور مزدور لوگوں میں سے بھی اور روز بروز کچھ لوگ مل کر محمد رسول اللہ صلعم کے ساتھ ملتے جاتے ہیں۔آخر اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ یہ آئمۃ الکفر اکیلے رہ جائیں گے اور سب کا سب ملک محمد رسول اللہ صلعم کے ساتھ ہو جائے گا۔بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۔یہ اس لئے فرمایا کہ ایک تو ان وقتوں میں سایہ لمبا ہوتا ہے اور دوسرے سایہ کا کامل ظہور سورج کے ادھر ادھر ہونے سے ہی ہوتا ہے۔اسی طرح تابع کی طاقت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب آقا پاس نہیں ہوتا اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جبکہ حکومت وسیع پھیلی ہوئی ہو۔پس بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ کہہ کر بتایا کہ خواہ تمہاری حکومت کتنی بھی وسیع کیوں نہ ہو تب بھی خدا تعالیٰ کے ماتحت ہو۔اور ایسا ہی یہ بتایا کہ خواہ تم خود محمد رسول اللہ کے مقابلہ پر آؤ یا جب تم اپنے نوکروں یا غلاموں کو بھیجو دونوں صورتوں میں ہم تمہاری تدبیروں کو توڑ ڈالیں گے۔یعنی نہ تم کچھ کرسکتے ہو اور نہ تمہارے سامان و تدابیر۔لطیفہ۔اس جگہ ظل کا ذکر کیا ہے اور جیسا کہ میں نے لغت کی رو سے ذکر کیا ہے ظل کے لئے اصل کا موجود ہونا ضروری ہے۔اگر سورج نہ ہو تو کوئی ظل ہی نہیں۔ظِلّی نبوت خاتم النبیین کی نبوت کو توڑ نہیں دیتی پس یہ کہنا کہ ِظلّیْ نبوت خاتم النبیین کی نبوت کو توڑ دیتی ہے بالکل غلط ہے۔ظلی نبوت تو اصل کے وجود کو ثابت اور روشن کرتی ہے نہ کہ منسوخ۔وہ اس کے لئے ایک زبردست شہادت ہے نہ کہ اس کے منافی۔