تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 39

ہے۔پس جو اس سے تعلق نہیں رکھتا تقدیر اس کی مؤید نہیں ہوتی۔اور وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ میں فرمایا کہ ان کی تدبیریں بھی ناقص غلط اور بے محل ہیں۔گویا نہ تقدیر ان کے ساتھ رہی اور نہ تدبیر۔تو اب ان کی کامیابی کی کون سی صورت باقی رہ گئی۔وَ لِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اور جو( ذوی الارواح) آسمانوں میں ہیں یا زمین میں ہیں اور ان کے سائے بھی خوش ہو کر( کریں) یا ناخوش ہو کر ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِؑ۰۰۱۶ (ہر) صبح؎ اورشام؎ سجدہ اللہ ہی کو کرتے ہیں۔حلّ لُغَات۔یَسْجُدُ۔سَجَدَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور فُلَانٌ سَاجِدُ الْمَنْخِرِ کے معنے ہیں ذَلِیْلٌ خَاضِعٌ کہ وہ عاجز ذلیل ہے۔اَلْبَعِیْرُ: خَفَضَ رَاْسَہٗ۔اور سَجَدَ الْبَعِیْرُ کے معنے ہیں اونٹ نے اپنا سر نیچے گرایا۔السَّفِیْنَۃُ لِلرِّیَاحِ۔طَاعَتْہَا وَمَالَتْ بِمَیْلِہَا۔کشتی کو جدھر ہوا نے چلایا وہ چل پڑی۔(اقرب) لِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ کے معنے ہوں گے ہر چیز اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر رہی ہے اور اس کے آگے عاجزی کرتی ہے۔ظِلٰلُھُمْ۔ظِلَالٌ ظِلٌّ کی جمع ہے۔اقرب الموارد میں ہے اَلظِّلُّ نَقِیْضُ الضِحِّ وَھُوَ الْفَیْءُ۔دھوپ کے مقابل کی چیز یعنی سایہ۔جہاں سورج کی روشنی براہ راست نہ پہنچتی ہو۔روشی کا نور اثر ڈال رہا ہو۔اَوْھُوَ بِالغَدَاۃِ۔وَالْفَیْءُ بِالْعَشِیِّ۔بعض کہتے ہیں کہ ظل صبح کے سایہ کو کہتے ہیں جو دوپہر تک رہتا ہے اور فَیْءٌ دوپہر کے بعد سے لے کر شام تک کے سایہ کو کہتے ہیں۔ظلال کے محاورہ کا استعمال قرآن مجید اور لغت میں (لیکن یہ قرآن کریم کے محاورہ کے خلاف ہے۔کیونکہ اس جگہ آیا ہے کہ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۔یعنی صبح اور شام دونوں کے سایوں کو ظِلَال کہا ہے) وقال رُؤْبَۃُ کُلُّ مَوْضِعٍ تَکُوْنُ فِیْہِ الشَّمْسُ فَتَزُوْلُ عَنْہُ فَھُوَ ظِلٌّ۔اور رؤبہ کے نزدیک ظلّ کے یہ معنی ہیں کہ ہر وہ جگہ جہاں سورج ہو۔اور پھر وہاں سے ہٹ جائے۔یُقَالُ ظِلُّ الْجَنّۃِ وَلَایُقَالُ فَیْؤُھَا ظِلَّ الْجَنَّۃِ تو کہہ سکتے ہیں لیکن اس کے متعلق فَیْءٌ کا لفظ نہیں استعمال کیا جاسکتا۔اِنَّمَا ھِیَ دَائِمًا ظِلٌّ۔کیونکہ وہ ہمیشہ ظل ہی رہتا ہے۔نیز