تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 38
صفات سے آگاہ نہیں وہ اس کی رحمتوں سے محروم رہے گا۔لیکن جو مخلوقات کو خدا بنائے گا وہ بھی ان مخلوقات کے فائدہ سے محروم رہے گا۔مثلاً پانی انسان کے فائدہ کی ایک چیز ہے اور انسان کے کام آنے کے لئے بنایا گیا ہے۔اگر کوئی پانی کو انسان کا ہی مقام دے دے اور جس طرح آدمی آدمی کو بلاتاہے ہاتھ پھیلا کر اسے بلانا شروع کردے تو پانی اس کےپاس نہ آئے گا۔اور وہ پانی کے فوائد سے محروم رہ جائے گا۔اسی طرح جو لوگ مخلوقات کو خدا بناتے ہیں وہ ان فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں جو ان مخلوقات میں مخفی ہیں۔ستاروں اور دریاؤں کو خدا بنانے والے کب ان پر حکومت کرنے کی جرأت کرسکتے ہیں اور انسانوں کو خدا بنانے والے کب ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ایک نبی کو خدا بنانے والا نبی والا فائدہ اٹھاتا نہیں اور خداوالا فائدہ نبی پہنچا نہیں سکتا۔پس اس کے اصل فائدہ سے یہ شخص محروم رہ جاتا ہے۔ہندوستان کے ترقی کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی بڑی وجہ ہندوستان کے ترقی کے میدان میں سب سے پیچھے رہ جانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے پانی اور آگ کو خدا بنالیا اور اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گئے۔جو ترقیات کے لئے دو بڑے رکن تھے۔مگر یوروپین لوگوں نے ان سے کام لیاا ور ترقی کرکے آگے نکل گئے۔ہندوؤں کی تو یہاں تک حالت ہے کہ جب دریائے گنگا سے انگریز نہر نکالنے لگے تو انہوں نےشور مچا دیا کہ ہمارے خدا کو کاٹنے لگے۔مسلمان بھی اپنے تنزل کے وقت بزرگوں کو خدائی صفات دے کر ان سے دعائیں مانگنے لگے۔نتیجہ یہ ہوا کہ عمدہ نمونہ کے طور پر کام آنا جو ان بزرگوں کا اصل فائدہ تھا اس سے محروم ہو گئے۔اور دعائیں سننے کی ان وفات یافتہ بزرگوں میں طاقت ہی نہ تھی پس انہیں اعلیٰ مقام دے کر ان کو تو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔آپ فوائد سے محروم رہ گئے۔اس آیت میں بتایا ہے کہ شرک انسانی ترقی میں ایک زبردست روک ہے۔اور شرک کی وجہ سے انسان مخلوقات سے وہ فائدہ حاصل نہیں کرسکتا جو خدا تعالیٰ نے ان میں پوشیدہ رکھا ہے۔اَلضَّلَالُ کے معنے وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ۔ان کی دعا ضائع اس طرح ہوتی ہے کہ وہ اپنے موقع پر نہیں پہنچتی۔دعا تو وہ ہے جو خدا تعالیٰ کے پاس جائے۔اگر خط یا پیغامبر کسی دوسری جگہ چلا جائے تو اس کا جانا نہ جانا برابر ہوتا ہے۔اسی طرح فرمایا کہ کافروں کی دعا بے پتہ رہ جاتی ہے۔دعا کی قبولیت کا اصل مقام تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔یہ لوگ اپنی دعاؤں پر اللہ تعالیٰ کا پتہ لکھتے تو ان کی دعائیں خدا تک ضرور پہنچتیں۔اور ان کو جواب آجاتا۔مگر ان لوگوں نے تو مخلوقات کا پتہ لکھنا شروع کر دیا۔جو دعا کو قبول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔اس لئے ان کی دعا ضائع ہوجاتی ہے اور تدبیریں ناکام رہتی ہیں۔تقدیر کا ٹلانا خدا تعالیٰ کے قبضہ میں ہے لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ میں یہ بھی بتایا ہے کہ تقدیر کا ٹلانا خدا کے قبضہ میں