تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 37

وَالْبَعِیْرَ۔ذَھَبَا عَنْہُ۔اونٹ اور گھوڑا اس سے ضائع ہو گئے۔(اقرب) اور ضَلَالٌ کے معنے ہوئے ضَیَاعٌ۔ضائع ہونا۔(لسان) اور مَادُعَاءُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلَالٍ کے معنے ہوئے کہ کافروں کی چیخ و پکار ضائع ہی جائے گی۔تفسیر۔لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ کے چار معنے جیسا کہ حل لغات میں لکھا گیا ہے اس آیت کے کئی معنی ہیں۔(۱)سچائی کی تائید میں اٹھنے والی آواز صرف خداہی کی ہوتی ہے۔یعنی عمدہ تعلیم جو سراسر حق ہو۔جو غلطی سے پاک ہو۔وہ صرف خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آسکتی ہے۔انسان کی بنائی ہوئی تعلیم میں غلطیاں اور جھوٹ ہوتے ہیں۔اس لئے یہ مت سمجھو کہ تمہاری تعلیمات اس کے مقابلہ میں ٹھہر سکیں گے۔اس پاک تعلیم کا مقابلہ جب تمہاری غلطیو ںسے پر تعلیم کے ساتھ ہوگا تو دنیا کو خودبخود اس کی برتری کا یقین ہوجائے گا۔اللہ ہی کی آواز پوری ہوکر رہتی ہے (۲) خدا تعالیٰ ہی کی آواز ہے جو ضرور غالب ہوکر رہتی ہے۔دنیا کے بادشاہوں کی آوازیں بھی دب جایا کرتی ہیں۔بادشاہ ایک مجرم کی سزا کا اعلان کرتا ہے مگر وہ ملک سے بھاگ جاتا ہے یا کسی کی ذلت کا سامان کرتا ہے مگر خود مر جاتا ہے۔صرف ایک اللہ کی آواز ہے جو پوری ہوکر رہتی ہے اور کوئی اس میں روک نہیں ڈال سکتا۔(۳) پکارنے کا فاعل بندہ کو قرار دیا جائے تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ جو پکارنا حق کا موجب ہوسکتا ہے یعنی فائدہ اور کامیابی والا ہوسکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو ہی پکارنا ہے۔یعنی اسی سے عجز کے ساتھ دعائیں مانگنا ہی کامیابی کی کلید ہے۔(۴) وہی مستحق ہے سب عبادات کا جو اس کے سوا دوسرے کو پکارتا ہے وہ کسی کا حق کسی کو دیتا ہے اور اس طرح ظالم اور ناشکرگزار بنتا ہے۔وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ۠ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَآءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ۔بِشَیْءٍ سے بتلایا کہ جھوٹے معبودوں کی طرف سے انہیں ذرہ بھر بھی نفع نہیں پہنچتا۔اگر کوئی دعا پوری ہو جاتی ہے تو وہ اتفاق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ان معبودان باطلہ کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ۔یعنی ان کی پکار اپنے دونوں ہاتھ پھیلانے والے کی طرح ہوتی ہے۔ادنیٰ چیز کو اعلیٰ مقام دینے والا اور اعلیٰ کو ادنیٰ دینے والا فوائد سے محروم رہ جاتا ہے اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ جس طرح اعلیٰ چیز کو ادنیٰ مقام دینے والا انسان فوائد سے محروم رہ جاتا ہے اسی طرح ادنیٰ کو اعلیٰ مقام دینے والا بھی اس کے فوائد سے محروم رہ جاتا ہے۔کھرے سکہ کو کھوٹا سمجھنے والا بھوکا مرے گا۔کیونکہ سکے کو استعمال نہ کرے گا۔مگر کھوٹے کو کھرا سمجھنے والا بھی وقت پر تکلیف اٹھائے گا کیونکہ وہ اس کے کام نہ آئے گا۔جو خدا تعالیٰ کی