تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 373
اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَۙ۰۰۹۶ ہم یقیناً تجھے ان تمسخر کرنے والوں(کے شر)سے محفوظ رکھیں گے الَّذِيْنَ يَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ۰۰۹۷ جواللہ(تعالیٰ)کے ساتھ کوئی (نہ کوئی )اورمعبود بنارہے ہیں۔سوو ہ عنقریب (اس کا نتیجہ)معلوم کرلیں گے۔تفسیر۔اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَکا حکم دینے کی وجہ یعنی اب تجھے ان لوگوں کی طرف توجہ کی اس لئے ضرورت نہیں کہ اب بحث مباحثہ والے جوابوں کی جگہ ہم ان کو آسمانی نشانوں کے ساتھ جواب دینا چاہتے ہیں اورتجھ پر ہنسی کرنے والوںکو عبرتناک سزائیں دینا چاہتے ہیں۔ان کوسوچنا چاہیے تھاکہ جب یہ اللہ تعالیٰ کے شریک بنارہے ہیں اوراس کی ہتک کررہے ہیں تووہ کب تک ان کی اس حرکت کو برداشت کرتاچلاجائے گا۔سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ کی پیشگوئی کا قومی اور فردی ظہور قومی طور پر تویہ پیشگوئی بعد ہجرت کفار کی شکست اورذلت سے پوری ہوئی۔فردی طور پر بھی ا س کاعجیب شاندار طورپر ظہور ہوا۔عروہ بن زبیر کی روایت ابن اسحاق نے لکھی ہے (تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھذا) آنحضرت ؐ پر ہنسی اڑانے والوں کا انجام کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہنسی اُڑانے والے پانچ رؤساء تھے ولید بن مغیرہ۔عاص بن وائل۔اسود بن عبدیغوث اوراسودبن المطلب اور حرث بن طلاطلہ۔ان کے بارہ حضرت جبریل کشف میں رسول کریم صلعم کو نظرآئے اوراسود بن عبدیغوث کے پیٹ کی طرف اشارہ کیااسے استسقاء ہو گیا اوروہ اس سے مرگیا۔ولید بن مغیرہ کے پیر کی طرف اشارہ کیا اسے ایک پرانا زخم تھا جومندمل ہوچکاتھا اس کے بعد وہ زخم پھٹ گیا اورو ہ ا س سے مرگیا۔اورعاص بن وائل کے پائوں کے تلوں کی طر ف اشار ہ کیا وہ چند دن بعد گدھے پر سوار طائف کوجارہاتھا کہ تلے میں کوئی چیز کھُب گئی اوروہ اس سے مرگیا۔اورحرث بن طلاطلہ کے سر کی طرف اشارہ کیا وہ سرکے زخم سے ہلاک ہوگیا۔اوراسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا اوروہ اندھاہوکرمرگیا۔یہ روایت سعید بن جبیر اورعکرمہ سے بھی مروی ہے۔سعید حرث بن غیطلہ نام بتاتے ہیں اورعکرمہ حرث بن قیس۔مگریہ اختلاف نہیں کیونکہ زہری کے نزدیک غیطلہ اس کی ماں کانام تھا اورقیس باپ کانام تھا۔