تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 368

کو ان کے مالوں کی لالچ تھی۔بلکہ اس حسرت سے دیکھنے سے منع کیاگیا ہے کہ اب سرداران عرب کی حشمت جاتی رہے گی اوروہ ایمان سے محروم رہ جائیں گے۔اوران کے اموال ان کو تقویٰ میں بڑھانے کی بجائے ان کی ہلاکت کاموجب ہوجائیں گے۔وَ قُلْ اِنِّيْۤ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُۚ۰۰۹۰ اور(لوگوں سے )کہہ (کہ )میں ہی کھول (کھول )کر بیان کرنےوالاکامل نذیر ہوں۔تفسیر۔یعنے اب توبانگ بلند سے ان کو یہ سنادے کہ میں ہاں میں ہی کھلاکھلا نذیر ہوں۔یعنی اس وقت خدا تعالیٰ نے انذار کاکام میرے ہی سپرد کیا ہواہے اس لئے میں الٰہی منشاء کے ماتحت اعلان کرتاہوں کہ تمہاری تباہی کا وقت آگیا ہے۔كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِيْنَۙ۰۰۹۱ اس لئے کہ ہم نے باہم بانٹ لینے والوں کے متعلق (اپناانذاری کلام)نازل کیا ہے۔حلّ لُغَات۔المقتسمین :اَلْمُقْتَسِمِیْنَ اِقْتَسَمَ سے اس کا فاعل مُقْتَسِمٌ آتاہے اور مُقْتَسِمُوْن اس کی جمع ہے۔اِقْتَسَمُوا المال بَیْنَہُمْ کے معنی ہیں۔اَخَذَ کُلٌّ قِسْمَہُ۔انہوں نے مال تقسیم کرلیا اورہرایک نے اپنااپناحصہ لے لیا (اقرب) تَقَاسَمَا الْمَالَ۔اِقْتَسْمَاہُ بَیْنَہُمَا۔انہوں نے آپس میں مال تقسیم کرلیا۔فَالْاِقْتِسَامُ وَالتَّقَاسُمُ بِمَعْنَی وَاحِدٍ۔یعنی ان معنوں کے روسے اقتسام اورتقاسم ہم معنی ہیں (تاج)پس مُقْتَسِمُوْنَ کے معنی ہوں گے تقسیم کرنے والے۔مراد آنحضر ت کی دشمنی کے فرائض باہم تقسیم کرنےوالوں سے ہے۔تفسیر۔عام طورپر اس آیت کے یہ معنی کئے جاتے ہیں ’’جس طرح ہم نے مُقْتَسِمِیْنَ پر نازل کیا ہے۔‘‘ (تفسیر لامام رازی زیر آیت ھذا) كَمَاۤ اَنْزَلْنَا الخ میں ک کے معنی تعلیل کے ہیں مگر میرے نزدیک اس جگہ ک کے معنی تعلیل کے ہیں اورکاف کا یہ استعمال لغت عربی سے ثابت ہے (اقرب) خود قرآن کریم میں بھی ان معنوں میں ک متعددجگہ استعمال ہواہے مثلاً فرماتا ہے وَاذْکُرُوْہُ کَمَا ھَدٰکُمْ(البقرۃ :۱۹۹) اللہ تعالیٰ کو یاد کروکیونکہ اس نے تم کو ہدایت دی ہے۔پس